منصوبے میں بڑے پیمانے پر جعل سازی اور مالی بدعنوانی کی گئی‘ عبدالحمید شیخ مرکزی کردار ہے‘متاثرین کو رقم واپس کی جائیگی:احسن اقبال
جے آئی ٹی نے ان خریداروں کے تحفظ کی سفارش کی ہے:عطاء اللہ تارڑ‘اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے:طلال چودھری
اسلام آباد میں سرکاری زمینوں پر جس بڑے پیمانے پر قبضے کئے گئے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے‘ قبضے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے:محسن نقوی
اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے انکشاف کیا ہے اسلام آباد کے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں، قواعد کی خلاف ورزی، جعل سازی اور مالی بدعنوانی کی گئی۔ منصوبے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی رپورٹ وفاقی کابینہ کو پیش کردی، جس نے رپورٹ کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت نے متاثرہ سرمایہ کاروں کو ان کی اصل سرمایہ کاری کے ساتھ کِبور ) شرح کے مطابق منافع واپس کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں عبدالحمید شیخ کو مبینہ طور پر اس منصوبے میں بے ضابطگیوں کا مرکزی کردار قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں سی ڈی اے کے متعدد افسروں کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں، دریں اثناء وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں کہا ہے وفاقی کابینہ کی جانب سے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ منظور کیے جانے کے بعد عمارت کا قانونی قبضہ حکومت کو مل گیا ہے۔ حکومت آئندہ چند ماہ میں اس عمارت کو پانچ ستارہ ہوٹل میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ اسلام آباد میں معیاری ہوٹل کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے متاثرہ افراد کو ان کی ادا کردہ رقوم واپس کی جائیں گی۔۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری زمینوں پر جس بڑے پیمانے پر قبضے کیے گئے ہیں، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ سرکاری اراضی پر قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور جہاں بھی سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ ہوگا، اسے ہر حال میں واگزار کرایا جائے گا۔