تامل ناڈو: حراستی تشدد کیس میں 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت

تامل ناڈو: حراستی تشدد کیس میں 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت

بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں پولیس حراست میں باپ بیٹے کی ہلاکت کے مشہور کیس میں عدالت نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت سنا دی ہے۔

یہ کیس بھارت میں پولیس تشدد کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

کیس کی اہم تفصیلات
یہ واقعہ 19 جون 2020 کو تامل ناڈو کے شہر ستھان کلم (Sathankulam) میں پیش آیا۔پولیس نے موبائل فون ڈیلر پی جے راج (59 سال) اور ان کے بیٹے جے بینکس (31 سال) کو لاک ڈاؤن کے دوران دکان کھلی رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔دونوں کو ستھان کلم پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور بعد میں عدالتی حراست میں منتقل کیا گیا۔چند ہی دنوں بعد دونوں زخمی حالت میں ہلاک ہو گئے۔
تشدد کے الزامات
لواحقین اور عینی شاہدین نے الزام لگایا کہ پولیس نے باپ بیٹے کو رات بھر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔خاتون کانسٹیبل نے عدالت میں گواہی دی کہ:دونوں کو مسلسل مارا پیٹا گیا۔تھانے میں میزوں اور لاٹھیوں پر خون کے دھبے موجود تھے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ محفوظ نہیں تھی کیونکہ فوٹیج روزانہ خودکار طور پر ڈیلیٹ ہو جاتی تھی۔
عدالتی کارروائی
کیس مدراس ہائی کورٹ کی ہدایت پر ریاستی سی بی سی آئی ڈی سے سی بی آئی کو منتقل کیا گیا۔سی بی آئی نے ایک انسپکٹر، دو سب انسپکٹر اور دیگر پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا۔مدورائی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج جی متھو کمارن نے اس کیس کو “نایاب میں سے نایاب” (Rarest of Rare) قرار دیتے ہوئے سخت سزا سنائی۔
سزا اور جرمانہ
عدالت نے 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت سنائی۔انہیں حکم دیا گیا کہ وہ متاثرہ خاندان کو 14 ملین بھارتی روپے بطور معاوضہ ادا کریں۔کیس کا دسواں ملزم اسپیشل سب انسپکٹر پالدورائی سماعت کے دوران کووڈ-19 سے انتقال کر گیا۔یہ کیس بھارت میں پولیس حراست میں تشدد اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک بڑی مثال سمجھا جا رہا ہے اور اس فیصلے کو انصاف کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔