تامل ناڈو، بھارت: شادی میں 2 کروڑ 50 لاکھ روپے، 70 لاکھ کی گاڑی اور 300 تولے سونا دینے کے باوجود 27 سالہ ریتھنیہ سسرالیوں کے لالچ اور ظلم کا شکار بن گئی۔
صرف 78 دن بعد وہ ذہنی اذیت اور تشدد سے تنگ آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر گئی۔ریٹھنیہ کے والد انادورائی نے دھوم دھام سے اپنی بیٹی کی شادی کیوِن کمار سے کی تھی، لیکن شادی کے صرف 10 دن بعد ہی سسرال والوں نے اسے ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ شوہر کی جانب سے مارپیٹ اور دھمکیوں کے علاوہ ساس اور سسر بھی تضحیک آمیز سلوک کرتے رہے۔ریٹھنیہ نے خودکشی سے قبل والد کو 7 آڈیو پیغامات بھیجے جن میں اس نے دردناک الفاظ میں اپنی حالت بیان کی۔ اس نے کہا، "مجھے یہ زندگی پسند نہیں... یہ لوگ مجھے اندر سے مار رہے ہیں... اب اور برداشت نہیں ہو رہا، میں جا رہی ہوں۔"
ریٹھنیہ نے 29 جون کو مندر جانے کا بہانہ کیا، راستے میں زہریلی دوا پی لی۔ اس کی لاش بعد ازاں کار میں ملی۔ پولیس نے شوہر، ساس اور سسر کو گرفتار کر لیا ہے۔ والد کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔یہ واقعہ بھارت میں جاری جہیز کے خلاف قوانین کی ناکامی اور خواتین پر گھریلو تشدد کے بڑھتے واقعات کی ایک اور سنگین مثال بن گیا ہے۔