سینئر ایگزیکٹو کمیٹی ممبر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، علی عمران آصف نے ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کو پیکا کے تحت تحفظ دینے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا، لیکن انہوں نے کہا کہ اس کا اصل امتحان اس فیصلے کا مؤثر عملدرآمد ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ایک محفوظ اور مضبوط نظام قائم کرے، جس میں صرف تکنیکی حفاظتی اقدامات ہی نہیں بلکہ ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کے اندر مؤثر احتساب کا نظام بھی ضروری ہو۔علی عمران آصف نے کہا کہ اگر ایف بی آر اس فیصلے کو حقیقت میں مؤثر بنانا چاہتا ہے تو اس میں افسران کی جامع تربیت، شفاف آڈٹ سسٹمز کا قیام، اور سائبر سیکیورٹی کے اقدامات میں مسلسل بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کو اہم انفراسٹرکچر کے طور پر تسلیم کرنا کوئی جامع حل نہیں ہے۔ بلکہ اس ڈیٹا کے تحفظ کو ابھرتے ہوئے خطرات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت صرف اس اقدام پر اکتفا نہ کرے، بلکہ سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے آگاہی کے کلچر کو فروغ دے تاکہ یہ نہ صرف سرکاری اداروں بلکہ نجی شعبے میں بھی پھیل سکے۔ عالمی منظرنامے میں سائبر کرائم کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں، اور حکومت کو ان بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔