محفوظ بسنت منانے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ،کمیٹی تشکیل دیدی گئی ، پتنگ بازوں میں خوشی کی لہر

پابندی کا بوکاٹا؟بسنت کی اجازت پر غور
 2009 میں پابندی لگائی گئی ،شہری 16 سال بعد تہوار سے محظوظ ہو سکیں گے ،ل ضلعی انتظامیہ کے تحت رجسٹرڈ افراد ہی پتنگ کی خرید و فروخت کر سکیں گے، ڈور میں شیشے کا استعمال منوع قرار
لاہور( کرائم رپورٹر)لاہور میں بسنت کے تہوار کو متوقع طور پر اگلے سال فروری میں منانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ تفصیل کے مطابق محفوظ بسنت منانے کے لئے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، اس مقصد کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ڈی جی والڈ سٹی اتھارٹی، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر ، سی سی پی او اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسر شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے افراد بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔کمیٹی نے آئندہ سال بسنت کو لاہور کے اندرون شہر منانے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ۔ اس کے علاوہ بسنت کے لئے پتنگ بازی کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے تحت رجسٹرڈ افراد ہی پتنگ کی خرید و فروخت کر سکیں گے اور ڈور تیار کرنے والے افراد بھی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں گے۔ ڈور کی تیاری میں ایس او پیز کے مطابق شیشے کا استعمال ممنوع ہوگا اور انتظامیہ اس کی جانچ کرے گی۔بسنت کے لئے دو روز مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، بسنت کے تہوار پر موٹر سائیکل بند کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ 2009 میں پابندی لگائی گئی تھی،شہری 16 سال بعد بسنت کے تہوار سے محظوظ ہو سکیں گے۔