بی این پی احتجاج: اہم شاہراہیں 10روز سے بند، تاجروں کو کروڑوں کا نقصان

 تاجروں کو صرف کنٹینرز کے ڈیمریج چارجز کی مد میں روزانہ تین کروڑ 36لاکھکا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے
کوئٹہ(آئی این پی )بلوچستان میں دو اہم قومی شاہراہوں کی گذشتہ 10روز سے بندش نے عوام، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ۔ ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو یومیہ کروڑوں روپے نقصان کا سامنا ہے ۔کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ایوب مریانی نے کہا ہے کہ شاہراہوں کی بندش کے باعث تاجروں کو صرف کنٹینرز کے ڈیمریج چارجز کی مد میں روزانہ ایک لاکھ 20ہزار امریکی ڈالر (تقریبا ًتین کروڑ 36لاکھ روپے) کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ دیگر مالی نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے صدر ایوب مریانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ این 40شاہراہ کی بندش سے ایران کی سرحد پر 1200سے زائد مال بردار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں جن میں 847بازرز بھی شامل ہیں، جو ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات لے کر پاکستان آ رہی تھیں۔ ہر گاڑی پر روزانہ تقریباً 100ڈالر کے کنٹینر ڈیمریج چارجز عائد ہو رہے ہیں۔ کوئٹہ میں این ایل سی ڈرائی پورٹ پر ایران جانے والی آلو اور چاول سے بھری 200گاڑیاں بھی کھڑی ہیں جن میں موجود سامان جلد خراب ہونے والا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر راستے کھلوائے اور جاری احتجاج کا پرامن حل نکالے۔