لاہور ہائیکورٹ نے خشک سالی سے بچنے کے لیے کورونا جیسی واٹر ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز دی ہے۔
عدالت نے گھروں میں پانی ضائع کرنے والوں اور سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے واٹر ایمرجنسی کے معاملے کو کابینہ میں پیش کر کے آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔تفصیلات کے مطابق، جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک سے متعلق گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی گئی کہ وہ گھروں میں گاڑیاں دھونے اور پانی ضائع کرنے والی سوسائٹی انتظامیہ پر جرمانہ عائد کرے۔ گھروں میں نل کے ذریعے پائپ لگا کر صاف پانی ضائع کرنے پر بھی مکمل پابندی عائد کی جائے، اور پانی ضائع کرنے پر جرمانے کی رقم آفس آرڈر پر تحریر کی جائے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ماحولیاتی تبدیلی کے پیش نظر دریاؤں میں پانی کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ پی ڈی ایم اے کو خشک سالی سے بچنے کے لیے مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا اور پانی کے بچاؤ کے لیے پنجاب میں دیگر محکموں کے ساتھ مل کر پیشگی اقدامات کرنے ہوں گے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پنجاب میں کورونا کی طرز کی واٹر ایمرجنسی نافذ کی جائے۔تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ واٹر ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے سمری کابینہ کو پیش کی جائے تاکہ ایمرجنسی کا نفاذ پی ڈی ایم اے کو پانی کے تحفظ کے اقدامات میں مزید مضبوط کرے۔ پانی کے تحفظ کے لیے مختلف محکموں کے فوکل پرسنز کی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے، جو پانی کے تحفظ سے متعلق اقدامات کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔کیس کی آئندہ سماعت 11 اپریل کو ہوگی۔