ایران میں شدید خشک سالی سے نمٹنے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ شروع

ایران میں شدید خشک سالی سے نمٹنے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ شروع

ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری سب سے شدید خشک سالی سے نبرد آزما ہونے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔

 سرکاری خبر ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ مصنوعی بارش برسانے کا عمل ہفتہ کو بحیرہ ارمیہ کے بیسن کے اوپر انجام دیا گیا، جہاں ایران کی سب سے بڑی جھیل، بحیرہ ارمیہ، بڑے پیمانے پر خشک ہو چکی ہے اور نمک زار میں تبدیل ہو گئی ہے۔یہ عمل مشرقی اور مغربی آذربائیجان کے علاقوں میں بھی جاری رہے گا۔ ملک میں بارش کی شرح ریکارڈ سطح سے کم ہونے کے باعث پانی کے ذخائر تقریباً خالی ہونے کے قریب ہیں، جس سے شدید پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے صدر مسعود پزیشکیان نے خبردار کیا تھا کہ اگر بارش جلد نہیں ہوئی تو تہران میں پانی کی راشننگ شروع کی جاسکتی ہے اور شہریوں کو دارالحکومت سے منتقل بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔کلاؤڈ سیڈنگ کے تحت مخصوص کیمیکلز جیسے سلور یا پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کو ہوائی جہاز یا زمینی جنریٹرز کے ذریعے بادلوں میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ آبی بخارات کو بارش میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ تکنیک کئی دہائیوں سے استعمال میں ہے، اور متحدہ عرب امارات بھی پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے اس کا استعمال کر چکا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال ایران میں بارشیں طویل المدتی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 89 فیصد کم رہیں، اور ملک اس وقت گزشتہ 50 برس کی سب سے خشک خزاں سے گزر رہا ہے۔ حکام نے پانی کے استعمال میں کمی لانے اور اضافی پانی استعمال کرنے والے گھروں و کاروباروں پر جرمانے عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ موسمیاتی بحران کے قومی مرکز کے سربراہ احمد وظیفہ نے خبردار کیا ہے کہ تہران، مغربی اور مشرقی آذربائیجان، اور مرکزی صوبے کے ڈیمز کی صورت حال تشویشناک ہے اور ان میں پانی کی سطح سنگل ڈیجٹس میں ہے۔جمعہ کو تہران کی ایک مسجد میں شہریوں نے بارش کے لیے دعائیں کیں، جبکہ ہفتہ کو مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں معمولی بارش ریکارڈ کی گئی، اور دارالحکومت کے شمال میں واقع ایک اسکی ریزورٹ پر اس سال کی پہلی برف باری بھی دیکھی گئی۔