صنعا: یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی فورسز نے حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی تیز کرتے ہوئے دارالحکومت صنعا دوبارہ حاصل کرنے کا اعلان کردیا۔
الجزیرہ کے مطابق یمن کے صوبوں تعز، البیضا اور الجوف میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں شدت آگئی ہے۔ حکومتی فورسز نے حوثی ٹھکانوں کے خلاف راکٹ اور ڈرون حملوں کے علاوہ زمینی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔یمن کے نائب وزیر دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ حکومت نے صنعا کو دوبارہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی فورسز کے ترجمان ماجد النزیلی کے مطابق کارروائی کا مقصد یمن کو حوثیوں کے کنٹرول سے نکالنا اور صنعا کو تمام یمنیوں کا دارالحکومت بنانا ہے۔حکومتی فورسز نے الجوف میں اللبانات کے پہاڑی علاقے کی جانب زمینی پیش قدمی جبکہ البیضا میں بھی پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومتی فورسز کی پیش قدمی روک دی ہے۔ حوثیوں نے جوابی کارروائی میں سرکاری فورسز کے اہلکاروں کو ہلاک یا زخمی کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق 23 اگست سے جاری حالیہ لڑائی میں کم از کم 728 افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ صرف تعز سے تقریباً 21 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق یہ لڑائی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن میں ہونے والی سنگین ترین کشیدگی میں شمار کی جارہی ہے۔ تازہ جھڑپوں نے ایک بار پھر طویل جنگ کے خاتمے اور سیاسی حل کے امکانات کو متاثر کردیا ہے۔