ٹرمپ مڈٹرم انتخابات ،خطرے کی گھنٹی

 ڈیموکریٹک امیدواروں کو تقریباً پانچ فیصد کی برتری،ڈیموکریٹس اکثریت کے بعد تحقیقات شروع کر سکتے ہیں
 واشنگٹن (خصوصی رپورٹ ) امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات کی انتخابی مہم کے غیر رسمی آغاز کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت ری پبلکن پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گئی ہے۔ انتخابات میں صرف دو ماہ باقی رہ گئے ہیں اور ری پبلکنز کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔سیاسی ماہرین کے مطابق وسط مدتی انتخابات عموماً وائٹ ہاؤس میں موجود صدر کی کارکردگی پر عوامی ریفرنڈم بن جاتے ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں یہ رجحان مزید نمایاں ہے، کیونکہ وہ گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے امریکی سیاست کی مرکزی شخصیت ہیں۔اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں، جس کے امکانات بظاہر موجود ہیں، تو وہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف وسیع تحقیقات شروع کر سکتے ہیں اور قانون سازی کے بیشتر معاملات میں وائٹ ہاؤس کو سمجھوتے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹک رہنما پہلے ہی ٹرمپ پر بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کا اعلان کر چکے ہیں۔سینیٹ میں اکثریت کی جنگ بھی انتہائی سخت قرار دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ڈیموکریٹس سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ ٹرمپ کی جانب سے نامزد کیے جانے والے متعدد اہم عہدیداروں، حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری بھی روک سکتے ہیں۔اگرچہ ڈیموکریٹس کو بھی اندرونی اختلافات کا سامنا ہے، تاہم ٹرمپ کی غیر مقبولیت ری پبلکن امیدواروں کے لیے بڑا بوجھ بن گئی ہے۔ تازہ رائٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ عوام کی بڑی تعداد ایران میں جنگ اور ملکی معیشت کی صورتحال سے ناخوش ہے۔رائے عامہ کے جائزوں میں رجسٹرڈ ووٹرز ری پبلکن امیدواروں کے مقابلے میں ڈیموکریٹک امیدواروں کو تقریباً پانچ فیصد پوائنٹس کی برتری دے رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس کے ووٹ ڈالنے کے لیے جوش و خروش میں اضافے کے شواہد بھی حالیہ خصوصی اور پرائمری انتخابات میں سامنے آئے ہیں۔تاریخ بھی ری پبلکنز کے خلاف دکھائی دیتی ہے۔ 1938ء کے بعد سے وسط مدتی انتخابات میں موجودہ صدر کی جماعت تقریباً ہر بار ایوانِ نمائندگان کی نشستیں کھوتی رہی ہے، صرف دو انتخابات اس سے مستثنیٰ رہے ہیں۔تاہم ری پبلکن پارٹی کو کچھ اہم فوائد حاصل ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں اس وقت ری پبلکنز کو 218 کے مقابلے میں 214 نشستوں کی معمولی برتری حاصل ہے۔ نئی انتخابی حلقہ بندیوں کے نتیجے میں پارٹی کو مزید 10 نشستیں ملنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔سینیٹ کی صورتحال ڈیموکریٹس کے لیے مزید مشکل ہے۔ جارجیا، مین، مشی گن اور شمالی کیرولائنا جیسی مشکل ریاستوں میں کامیابی کے باوجود ڈیموکریٹس کو ان چار ریاستوں میں سے کم از کم دو میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی جہاں ٹرمپ نے 2024ء میں دوہرے ہندسے کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان ریاستوں میں الاسکا، آئیووا، اوہائیو اور ٹیکساس شامل ہیں۔ادھر اوہائیو میں ڈیموکریٹک امیدوار برائے گورنر ایمی ایکٹن پر اتوار کو ینگ ٹاؤن کے قریب ایک ہجوم میں ایک مسلح شخص نے حملہ کیا، تاہم امیدوار محفوظ رہیں۔انتخابی فنڈنگ میں ڈیموکریٹک امیدوار قومی سطح پر اپنے ری پبلکن حریفوں سے زیادہ رقم جمع کر چکے ہیں، لیکن ری پبلکن قومی کمیٹیوں اور ٹرمپ نواز سپر پی اے سیز کے پاس ڈیموکریٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالی وسائل موجود ہیں۔ ٹرمپ کے اپنے سپر پی اے سی کے پاس تقریباً 400 ملین ڈالر کا انتخابی سرمایہ موجود ہے۔ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ وہ قومی سطح پر مقبول ووٹ زیادہ حاصل کریں گے، لیکن اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا انتخابی حلقہ بندیوں اور سینیٹ کے انتخابی نقشے جیسے عوامل انہیں کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے سے روک دیں گے۔ری پبلکنز ٹرمپ کی قیادت میں ڈیموکریٹس کو سوشلسٹ اور کمیونسٹ قرار دے کر انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس مہنگائی، توانائی کے اخراجات اور ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔آئیووا میں کسان بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں اور ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ٹیکساس میں مویشی پالنے والے غیر ملکی گوشت پر درآمدی ٹیکس ختم کرنے کے فیصلے سے ناراض ہیں۔ مشی گن اور مین بھی کینیڈا کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے اثرات محسوس کر سکتے ہیں۔انتخابات میں معیشت اور جنگ کے علاوہ صحت عامہ، غزہ میں اسرائیل کی جنگ اور ڈیٹا سینٹرز بھی اہم انتخابی موضوعات بن سکتے ہیں۔ 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں جبکہ سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ انتخابات میں ابھی آٹھ ہفتے باقی ہیں، لیکن ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں عوامی منفی تاثر تبدیل کرنا ری پبلکنز کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔یونیورسٹی آف ورجینیا کے انتخابی ماہر کائل کونڈک کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا ری پبلکنز اپنے ووٹرز کا جوش مزید بڑھا سکتے ہیں، یا ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی انتخابات تک برقرار رہے گی۔