جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے ‘ اس کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا چاہیے
بھارت کے نام نہاد سرکاری نقشوں اور یکطرفہ خودمختاری کے دعوئوں کی کوئی قانونی یا بین الاقوامی حیثیت نہیں‘عالمی برادری بھارت کے یکطرفہ اقدامات کا نوٹس لے:ترجمان
اسلام آباد (آن لائن) پاکستان نے جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کے بے بنیاد اور یکطرفہ دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کے کسی بھی یکطرفہ اقدام سے متنازع جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین بین الاقوامی تنازعات میں شامل ہے اور اس کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے اور رائے شماری اقوام متحدہ کی نگرانی میں سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کرائی جانی چاہیے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشوں میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ ظاہر کیا گیا ہے، لہٰذا بھارت کے نام نہاد سرکاری نقشوں اور یکطرفہ خودمختاری کے دعووں کی کوئی قانونی یا بین الاقوامی حیثیت نہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بھارتی یکطرفہ اقدامات نہ تو جموں و کشمیر کے تنازع کی حقیقت تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات کا نوٹس لے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔