فوج طلب ، بڑے پیمانے پر نقل مکانی ،ریسکیوکشتی الٹ گئی ، 7 افراد جاں بحق ، طوفانی بارشوں کا نیا سپیل شروع، جہلم ڈوب گیا
پنجاب کے دریائوں میں پانی کی بلند سطح برقرار، ملتان، مظفر گڑھ کی کئی بستیاں زیر آب،چنیوٹ، علی پور، بہاولنگر میں صورتحال سنگین
بھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، الرٹ جاری ،بڑے شہروں میں ندی نالے بپھر سکتے ہیں :ڈ ی جی پی ڈی ایم اے
علی پور میں سیکڑوں افراد نے درختوں پر چڑھ کر جان بچائی ، پنجاب کے 4 ہزار 100 دیہات میں 41 لاکھ سے زائد افراد متاثر
لاہور،جلال پورپیروالہ،ملتان،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے مختلف علاقوں میں دریائے چناب اور ستلج میں طغیانی کے باعث شہری اور دیہی آبادیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں،حفاظتی بند ٹوٹنے کے بعد پانی بستیوں میں داخل ہو چکا ، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ،ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا میں صورتحال خراب ہونے پرپاک فوج کو مدد کیلئے طلب کر لیا گیا ، جلال پورپیروالہ شہر کا بند ٹوٹنے کا خدشہ ،شہر خالی کرنے کا حکم ، شہریوں کی بڑی تعداد نے نقل مکانی شروع کردی ۔ جلال پور پیر والا میں ہی سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے والی کشتی اْلٹنے سے خاتون اوراس کے 4 بچے ڈوب کر ،کمسن لڑکی سمیت 2افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہو گئے،کشتی میں سوار 25افراد کوڈوبنے سے بچا لیا گیاجبکہ طوفانی بارشوں کا نیا سپیل شروع ہو گیا جس کے نتیجہ میں جہلم شہر میں گلیاں، سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔دوسری طرف بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا جس کے بعد پنجاب میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم اے پنجاب نے جاری بیان میں کہا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو معلومات فراہم کی ہیں کہ دریائے ستلج پر پانی کے بہائو میں مزید اضافہ ہو گا، دریائے ستلج میں ہریکے زیریں سٹریم اور فیروزپور زیریں سٹریم میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جس پر مقامی انتظامیہ کو شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کر دی،پنجاب کے دریائوں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے، ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 3 لاکھ 11 ہزار کیوسک، سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہائو 84 ہزار کیوسک ،خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 1 لاکھ 42 ہزار کیوسک ، قادر آباد کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 1 لاکھ 41 ہزار کیوسک ، ہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 5 لاکھ 43 ہزار کیوسک ہے،دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 56 ہزار کیوسک،شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 93 ہزار کیوسک ، بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پر پانی کا بہائو 1 لاکھ 48 ہزار کی کیوسک،ہیڈ سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہائو 91 ہزار کیوسک ہے۔ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ 9 ستمبر تک پنجاب کے دریائوں راوی ،ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریائوں کے بہائو میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے، تمام متعلقہ محکمے الرٹ ہیں۔ ادھر ملتان میں دریائے چناب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ تحصیل شجاع آباد اور جلالپور پیروالہ میں 50 سے زائد مواضعات متاثر ہوگئے ۔ جلالپور پیر والا میں زمیندارہ بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں زیر آب آگئیں۔ شہر کو بچانے کے لیے 8 کلومیٹر طویل عارضی بند کی تعمیر جاری ہے۔ تحصیل جلال پور پیر والا میں شہر کے حفاظتی بند ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہونے پر پولیس نے شہر خالی کرنے کی ہدایت کردی، اس حوالے سے مساجد میں اعلانات کروائے گئے ہیں۔ان اعلانات کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے نقل مکانی شروع کردی ۔یاد رہے شہر کی آبادی تقریبا ایک لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ سی پی او ملتان کے مطابق جلال پور پیر والا میں صورتحال خراب ہونے کے باعث پاک فوج کی مدد طلب کر لی گئی ، ریسکیو آپریشن میں پاک فوج کی 14 کشتیاں ، ریسکیو 1122 کی 8 کشتیاں ،پولیس کی 5 پرائیویٹ کشتیاں بھی آپریشن میں شامل ہیں، مجموعی طور پر 27 کشتیاں متاثرین کو ریسکیو کرنے میں مصروف ہیں۔دریں اثناء تحصیل جلال پورپیروالہ کے علاقہ وچھہ سندیلہ میں سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرتے ہوئے کشتی الٹنے سے بخت مائی اور اس کے 4 بچے فاطمہ، مسکان،ماہ نور اور ریحان ڈوب کر جاں بحق ہوگئے،پولیس کے مطابق کشتی میں 30 افراد سوار تھے، جن میں سے 25 کو بچا لیا گیا۔علاوہ ازیں وچھہ سندیلہ میں ہی ریاض ننھا نامی نوجوان سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہوگیا۔ بستی جعفریں میں 11 سالہ مومن بی بی بھی سیلابی ریلے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئی،جاں بحق تمام افراد کی لاشیں برآمد ہو گئیں۔ کشتی الٹنے کے افسوسناک واقعہ کا وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لے لیا اور ضلعی انتظامیہ کو جاں بحق ہونیوالوں کی تدفین کا بندوست کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ لواحقین کی مالی امداد کرنے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔ جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کشتی حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئیلواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہاکہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف کی کارروائیوں کو مزید تیز اور مئوثر کیا جائے،نقل مکانی کرنے والے افراد کی بروقت اور بھرپور امداد یقینی بنائی جائے۔ریسکیو و امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ روابط و تعاون کو مزید مربوط بنایا جائے۔ ادھرملتان کی تحصیل علی پورکے موضع بیٹ ملا نوالی کے مقام پر رات کو حفاظتی بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں زیرآب آگئیں، پانی کی سطح بلند ہونے سے مرد، عورتیں اور بچے سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں، سیکڑوں افراد نے درختوں پر چڑھ کر جاں بچائی ، متاثرین کے اہل خانہ نے مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔مظفر گڑھ کی کئی بستیاں بھی پانی میں ڈوب گئیں ،خان گڑھ، روہیلانوالی، شہر سلطان سیلاب سے متاثر ہو گئے، ضلع ملتان میں آم کے باغات، فصلیں تباہ ہو گئیں،ضلع لودھراں میں بھی متعدد جگہوں پر بند ٹوٹنے سیپانی کھیتوں میں داخل ہو گیا ،لودھراں میں بستی حیات پور،چھمب کلیار،کہروڑپکا میں موضع سیکڑ،ٹبی وڈاں، مسہ کوٹھا اور شاہ پور میں سیلاب متاثرین کا انخلاء بدستور جاری ہے۔کہروڑپکا میں متعدد بند ٹوٹ چکے جن کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور سڑکات زیر آب آگئیں، کئی علاقوں کے آپس میں زمینی رابطے منقطع ہو گئے کچھ جگہوں پر پھنس جانے والے افراد کو ریسکیو 1122 نے ریسکیو بھی کیا۔ بہاولنگر کی ستلج بیلٹ کے 160 کلومیٹر طویل علاقے میں کئی مقامات پر عارضی بند ٹوٹ چکے، کئی دیہات زیر آب آگئے اور ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔منچن آباد، بہاولنگر اور چشتیاں کے متعدد دیہات شہروں سے کٹ چکے ہیں۔دریائے ستلج میں عارف والا اور لڈن کے علاقوں میں بھی پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ غلام شاہ کے علاقے میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور فصلوں میں داخل ہو چکا اور سینکڑوں افراد گھروں میں محصور ہیں۔ اوچ شریف میں ہیڈ پنجند پر پانی کی سطح 4 لاکھ 90 ہزار کیوسک تک پہنچ چکی ، جس سے کئی دیہات متاثر ہوئے ہیں۔دریائے راوی کے مائی صفوراں بند سے نکلنے والا سیلابی ریلا کبیروالا کے 40 دیہات کو متاثر کر چکا، جہاں 80 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔مزید برآں جھنگ میں دریائے چناب پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ چنیوٹ میں بھی سیلابی صورتحال سنگین ہو چکی،انتظامیہ نے چنیوٹ میں 56 سکول مزید دو دن بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر سیلاب متاثرہ علاقوں کے 56 سکول آج 8 اورکل 9 ستمبر کو بند رہیں گے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تربیلا ڈیم مکمل طور پر بھر چکا ، منگلا ڈیم 87 فیصد جبکہ بھارت کے بھاکڑا، پونگ اور تھین ڈیم 90 فیصد سے زائد بھر چکے ہیں، جس سے اضافی پانی چھوڑنے کے امکانات بڑھ گئے ۔ علاوہ ازیں نارووال میں نالہ بسنتر پر پڑنے والا 200 فٹ چوڑا اور 20 فٹ گہرا شگاف تاحال بند نہیں کیا جا سکا ۔دریں اثناء سندھ میں بھی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ پنجاب سے سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہو چکا ،ممکنہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کا انخلا جاری ہے۔ پنجند بیراج پر پانی میں 97 ہزار 706 کیوسک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے بہا ئو4 لاکھ 46 ہزار 820 کیوسک تک پہنچ گیا۔ سیہون میں دریائی علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔ دریائے سندھ میں انتہائی درجے کا سیلاب ہے۔ رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے مواضعات نور والا اور گل محمد لنگاہ میں ہنگامی بنیادوں پرمتاثرہ علاقوں سے انخلا جاری ہے۔ راجن پور میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے 23 دیہات زیر آب آگئے اور کچے کے رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ رحیم یار خان میں بھی الرٹ جاری کردیا گیا۔ ادھر ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ شدید بارش کے باعث ضلع گجرات پچھلے 24 گھنٹے سے ناگہانی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے ، 9 ستمبر تک صوبے میں دسواں مون سون سپیل جاری رہے گا ، دریائے چناب میں 5 لاکھ 83ہزار کیوسک کا ریلہ ہیڈ تریموں کے مقام پر ہے، اگلے بارہ سے 18 گھنٹے میں یہ پانی پونے 6 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرے گا ، ملتان میں کم از کم اگلے 72 گھنٹے یہی صورتحال برقرار رہے گی، پیچھے سے آنیولا پانی مسائل پیدا کرے گا، ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کا لیول مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت تک 25 اضلاع متاثر ہوئے ، پنجاب کے 4 ہزار 100 دیہات میں سیلاب سے 41 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے،ریلیف کیمپس میں 60 سے 70 ہزار لوگ موجود ہیں، جنھیں کھانے کے ساتھ بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، 500 میڈیکل کیمپس میں پونے 2 لاکھ افراد طبی سہولیات لے چکے ہیں، اب تک 20 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مجموعی طور پر 56 افراد سیلابی صورتحال کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے جنوبی پنجاب کے علاقوں جیسے بہاولپور، احمدپور، راجن پور، ڈی جی خان، رحیم یار خان، صادق آباد اور مظفر گڑھ میں تیز بارشوں اور ممکنہ فلیش فلڈنگ کا الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ 9 ستمبر تک ڈیرہ غازی خان کے رودکوہی علاقوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ برقرار ہے،دریائے چناب، راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال ہے جبکہ بڑے شہروں میں ندی نالے بپھر سکتے ہیں۔ ادھر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )کے مطابق سندھ، بلوچستان کے بعض علاقوں میں بھی اربن فلڈ کا خدشہ ہے ،مون سون سیزن میں اب تک 910 افراد جاں بحق اور 1044 افراد زخمی ہو چکے، گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 3 افراد جاں بحق ہوئے،دوران مون سون 6180 مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر مون سون کے ایک اور طوفانی سپیل کا آغاز ہو گیا اور اس دوران جہلم میں تیز بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، گلیاں، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں،نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا، پنجاب کے کئی شہروں میں مزید شدید بارشوں کا امکان ہے ، سندھ میں بھی بارشوں سے سیلابی صورتحال ہو گی ،کراچی میں بارشوں سے اربن فلڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔سندھ، بلوچستان میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔