چشتیاں، اوچ شریف، علی پور، شجاع آباد، منچن آباد میں ہر طرف تباہی کے مناظر جلالپور پیر والا کے قریب موٹروے کا حصہ سیلاب میں بہہ گیا

اوچ شریف روڈ پر شگاف سے موٹروے کو شدید نقصان پہنچا،دریائے چناب کے پانی میں کمی ہونے کے بعد شجاع آباد کے زیر آب علاقوں میں بھی پانی اترنے لگا 
چاچڑاں کے مقام پر درجنوں بستیاں اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئیں‘ گڈو بیراج سے اونچے درجے کے سیلابی ریلے سکھر میں داخل، کچے کے مزید دیہات  ڈوب گئے
لاہور، ملتان، بہاولپور، گھوٹکی(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں) پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود جنوبی علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، سیلاب کے ریلے جنوبی پنجاب سے آگے بڑھتے ہوئے سندھ میں بھی تباہی پھیلانے لگے ہیں، کچے کے علاقے میں سیکڑوں دیہات زیر ا?ب ا? گئیپولیس حکام کے مطابق جلالپور پیروالا کے قریب سیلابی پانی میں ملتان سکھر ایم فائیو (M-5) موٹروے کا ایک حصہ بہہ گیا جس کے بعد موٹروے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔حکام کے مطابق اوچ شریف روڈ پر شگاف سے موٹروے کو شدید نقصان ہوا، این ایچ اے نے موٹروے پل کی مرمت کی کوشش کی مگر تیز بہاؤ کے باعث کام روک دیا گیا۔حکام کے مطابق جلالپور شہر کو بچانے والے بند پر پانی کا دباؤ مسلسل کم ہو رہا ہے جبکہ دریائے چناب کے پانی میں کمی ہونے کے بعد شجاع آباد کے زیرِ آب علاقوں میں بھی پانی اترنے لگا ہے۔دریائے ستلج میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے چشتیاں کے 47 موضع جات زیر آب آ گئے، موضع راجو شاہ، بونگہ جھیڈ، مزید شاہ، بلاول، میرن شاہ شدید متاثر ہوئے، گنا، چاول، مکئی اور تل کی فصلیں زیر آب آ چکی ہیں، 48183 ایکڑ زرعی رقبہ متاثر ہوا۔چاچڑاں کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب سیدرجنوں بستیاں اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئی ہیں۔اوچ شریف کے 25 دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، 36 موضع جات میں مکانات منہدم ہو چکے ہیں ‘دریں اثناء  سیلابی ریلے سندھ میں بھی تباہی پھیلانے لگے ہیں،دریائے سندھ میں گڈو ،سکھر اور کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے ،آئندہ 24 گھنٹے میں  پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوگا۔گڈو بیراج سے اونچے درجے کے سیلابی ریلے سکھر کی جانب بڑھنے  کی وجبہ سے کچے کے دیہات کی بڑی تعداد زیرآب آگئے،جبکہ دیہات میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔