سابق بھارتی فاسٹ بولر عرفان پٹھان نے سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں افغانستان کی عبرتناک شکست پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک میچ کی کارکردگی افغانستان ٹیم کی اصل صلاحیتوں کا پیمانہ نہیں ہوسکتی۔
عرفان پٹھان نے افغانستان کی شکست کے بعد ان کے ڈی آر ایس نہ ہونے اور ناقص امپائرنگ کو بہانہ بنانے کی کوشش کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے اور ایک میچ سے ٹیم کے معیار پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز کھیلے گئے فائنل میچ میں پاکستان نے افغانستان کو 75 رنز کے بڑے فرق سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی۔پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر 141 رنز اسکور کیے۔ پاکستان کی جانب سے بیٹنگ لائن مشکلات کے باوجود مجموعہ کھڑا کرنے میں کامیاب رہی اور افغانستان کو 142 رنز کا ہدف دیا۔
ہدف کے تعاقب میں افغانستان کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام رہی اور پوری ٹیم محض 66 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ افغانستان کے کپتان راشد خان 17 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے جبکہ صدیق اللّٰہ 13 رنز بنا سکے۔ باقی بلے باز یکے بعد دیگرے آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے اور کوئی کھلاڑی ذمہ دارانہ کارکردگی نہ دکھا سکا۔پاکستان کی بولنگ شاندار رہی جس کے باعث افغانستان کی ٹیم کو بڑے مارجن سے شکست ہوئی۔