وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری تیز کردی

وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری تیز کردی

وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈیسکوز) کی نجکاری کے عمل کو مزید تیز کرتے ہوئے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) سمیت بیچ فور میں شامل دیگر کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری شروع کردی ہے۔

اس سلسلے میں نجکاری کمیشن نے پاور ڈویژن سے جامع تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ پاور ڈویژن کی ہدایت پر میپکو انتظامیہ نے کمپنی کی بیلنس اور آف بیلنس شیٹس کی صفائی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ایکسپریس کو موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق نجکاری کمیشن نے بیچ فور کی کمپنیوں کی نجکاری سے قبل تمام مالیاتی اور انتظامی پہلوؤں کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔

مالیاتی اور قانونی تفصیلات طلب
نجکاری کمیشن نے پاور ڈویژن سے میپکو کی تازہ ترین فنانشل آڈٹ رپورٹس فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ حکام کے مطابق میپکو کے آڈٹ تقریباً مکمل ہوچکے ہیں اور جلد رپورٹ جمع کرادی جائے گی۔ اسی طرح بیچ ٹو میں شامل ڈیسکوز کی غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، جن میں قانونی حیثیت، ریونیو ریکارڈ اور ملکیت کے شواہد شامل ہیں۔

اثاثہ جات اور ملازمین کی فہرست
نجکاری کمیشن نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ تمام ڈیسکوز کے اثاثہ جات، ان کی موجودہ ویلیو ایشن، انوینٹری، ملازمین اور پینشنرز کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ اس میں ریگولر، کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کی تعداد، ان سے متعلقہ رولز و ریگولیشنز، پینشنرز کی تعداد اور ان کے واجبات کی تفصیل شامل ہوگی۔

واجبات اور وصولیاں
دستاویز کے مطابق ڈیسکوز کے ذمہ موجود واجبات اور قابل وصول رقوم کی بھی فہرست مرتب کی جائے گی تاکہ نجکاری کے عمل میں شفافیت برقرار رکھی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ صارفین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے وصولیاں کس حد تک ممکن ہیں، اس پر بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

شیئرز اور پراپرٹیز کی منتقلی
مزید بتایا گیا ہے کہ پاور ڈویژن کی جانب سے میپکو سمیت دیگر ڈیسکوز کے شیئرز اور پراپرٹیز کے ٹائٹل کی منتقلی کا عمل پہلے ہی شروع کیا جاچکا ہے تاکہ نجکاری کے دوران کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا مقصد بجلی کے شعبے میں شفافیت، کارکردگی اور مالی نظم و ضبط بہتر بنانا ہے، تاہم اس عمل سے ہزاروں ملازمین کے مستقبل اور عوامی مفادات سے متعلق خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔