اعجاز چوہدری کی نااہلی کیس: ہائیکورٹ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

اعجاز چوہدری کی نااہلی کیس: ہائیکورٹ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق سینیٹر اعجاز چوہدری کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

 جسٹس احمد ندیم ارشد نے کیس کی سماعت کی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ملک جاوید اعوان اور نصر احمد مرزا پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ نااہلی کا معاملہ سپریم کورٹ یوسف رضا گیلانی کیس میں طے ہوچکا ہے، سزا ہونے پر نااہلی فوری طور پر لاگو ہوتی ہے، لہٰذا عدالت میں دائر یہ درخواست ناقابلِ سماعت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ کی خالی نشست پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری ہوچکا ہے اور انتخابی عمل سے ایک روز قبل عدالت سے رجوع کرنا بلاجواز ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو بتایا کہ انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات میں اعجاز چوہدری کو دس سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ازخود نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ ان کے مطابق چیئرمین سینیٹ کی جانب سے ریفرنس بھیجے بغیر نااہلی نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔