واشنگٹن: نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں اور لوگوں کو یرغمال بنانے کے واقعات کو جنگی جرائم قرار دیا، تاہم غزہ میں اس کے بعد جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کو ’جاری نسل کشی‘ قرار دیا ہے۔
بدھ کو جاری اپنے بیان میں زوہران ممدانی نے کہا کہ 7 اکتوبر کے واقعات کو تین سال مکمل ہوگئے ہیں اور یہ دن نیویارک کے بہت سے شہریوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ان کے مطابق حماس کے حملے میں 1100 سے زائد اسرائیلی ہلاک جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔ممدانی نے کہا کہ وہ حملے میں اپنے جاننے والوں اور پڑوسیوں کو کھونے والے خاندانوں کے غم میں شریک ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں بلکہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا۔نیویارک کے میئر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ غزہ میں اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں 21 ہزار سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے بعد بھی 1400 سے زائد فلسطینی مارے جاچکے ہیں۔
ممدانی نے اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایمبولینسوں پر حملوں، رہائشی عمارتوں اور صحافیوں کو مبینہ ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے جانے اور سرحدی گزرگاہوں سے خوراک کی امداد روکنے کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے امریکا کی اسرائیل کے لیے حمایت پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان کے بقول ان کارروائیوں کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ ممدانی نے امریکی حکومت پر اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے تشدد میں ’شراکت‘ کا الزام بھی عائد کیا۔ممدانی نے کہا کہ 7 اکتوبر کے تین سال بعد بھی دنیا کو ایسے نظام کو مسترد کرنا چاہیے جس میں ان کے بقول قبضے، نسل پرستی اور جنگی جرائم کے لیے جواب دہی نہ ہو۔