افغانستان میں امریکی واپسی کی بازگشت، طالبان سے روس کی قربت کی وجہ سامنے آگئی

افغانستان میں امریکی واپسی کی بازگشت، طالبان سے روس کی قربت کی وجہ سامنے آگئی

روس کی جانب سے افغان طالبان کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کرنے کی بنیادی وجہ اس کے اسٹریٹجک مقاصد ہیں۔

 ماسکو کو خدشہ ہے کہ امریکا افغانستان میں دوبارہ اپنا اثر و رسوخ قائم کرسکتا ہے، جسے روکنے کیلئے روس طالبان حکومت کے ساتھ محتاط پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ذرائع نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ روس افغان طالبان کے حوالے سے اپنی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی پر غور کررہا ہے۔ ان کے مطابق ماسکو فارمیٹ اجلاس میں روس نے دانستہ طور پر طالبان کیلئے مصالحتی اور نرم لہجہ اختیار کیا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماسکو نے طالبان حکومت سے متعلق اپنے خدشات ختم کردیئے ہیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق روس کو خدشہ ہے کہ کابل پر زیادہ دباؤ ڈالنے سے طالبان حکومت کا جھکاؤ واشنگٹن کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ماسکو افغانستان میں امریکی اثر و رسوخ کی واپسی روکنے کیلئے طالبان حکومت کے ساتھ تعاون کررہا ہے اور محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے نرمی اور سختی دونوں طریقے اختیار کررہا ہے۔ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان کے حوالے سے روسی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاک روس مشترکہ فوجی مشقیں حال ہی میں مکمل ہوئی ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ماسکو کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ماسکو فارمیٹ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کی وجہ پاکستان اور روس کے درمیان اختلافات نہیں بلکہ افغان طالبان کے ساتھ اختلافات تھے۔ روس بھی مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے پر ناخوش تھا۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ سال کے اجلاس کے اعلامیے میں استعمال کیے گئے الفاظ پر طالبان نے اعتراض نہیں کیا تھا، تاہم حالیہ اجلاس کے اعلامیے میں انہی الفاظ کو شامل کرنے پر طالبان نے اتفاق نہیں کیا، جس کے باعث اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر اختتام پذیر ہوگیا۔