کراچی: گلشنِ معمار میں ڈاکٹر کے قتل کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

کراچی: گلشنِ معمار میں ڈاکٹر کے قتل کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

کراچی: گلشنِ معمار میں فائرنگ کرکے قتل کیے جانے والے ڈاکٹر آغا محمد کاشف الدین کے قتل کا مقدمہ ان کی اہلیہ کی مدعیت میں نامعلوم ملزم کے خلاف درج کرلیا گیا۔

 پولیس نے واقعے کا مقدمہ دفعہ 302 کے تحت درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی ہیں۔پولیس کے مطابق گلشنِ معمار تھانے میں مقدمہ نمبر 536/2026 درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں مقتول کی اہلیہ سندس احسن نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے شوہر گزشتہ 20 سال سے گلشنِ معمار سیکٹر 2-X میں آغا میڈیکل سینٹر کے نام سے اپنا کلینک چلا رہے تھے۔

کلینک میں داخل ہوکر ملزم نے فائرنگ کردی

ایف آئی آر کے مطابق 6 نومبر کی رات تقریباً 9 بج کر 10 منٹ پر ایک نامعلوم شخص کلینک میں داخل ہوا اور ڈاکٹر سے تصدیق کی کہ آیا یہ ڈاکٹر کاشف کا کلینک ہے۔ڈاکٹر کی جانب سے جواب دینے پر ملزم نے اچانک اسلحہ نکال کر ان پر فائرنگ کردی اور واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگیا۔فائرنگ کے نتیجے میں ڈاکٹر آغا محمد کاشف الدین پیشانی کے قریب گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

والدہ اور بہن کے غلط علاج کا الزام، پولیس کی تحقیقات جاری

ایس ایچ او گلشنِ معمار محمد علی نیازی کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ فائرنگ سے قبل ملزم نے ڈاکٹر پر اپنی والدہ اور بہن کا غلط علاج کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس اطلاع سمیت قتل کے تمام ممکنہ محرکات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔