مشرق وسطیٰ میں کشیدگی؛ امریکا کا دفاعی الرٹ بلند، ’ڈومز ڈے‘ طیارہ واشنگٹن پہنچا دیا گیا

 مشرق وسطیٰ میں کشیدگی؛ امریکا کا دفاعی الرٹ بلند، ’ڈومز ڈے‘ طیارہ واشنگٹن پہنچا دیا گیا

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکا نے اپنا دفاعی الرٹ لیول بلند کر دیا ہے اور ’ڈومز ڈے‘ طیارہ کہلایا جانے والا E-4B نائٹ واچ ایمرجنسی کمانڈ طیارہ واشنگٹن ڈی سی کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز پر لینڈ کرا دیا گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ انتہائی خفیہ اور ایٹمی حملوں میں محفوظ رہنے والا طیارہ صرف سنگین عالمی یا قومی ہنگامی حالات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی حالیہ سرگرمی نے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

  E-4B نائٹ واچ کیا ہے؟
عرف عام: ڈومز ڈے (Doomsday) طیارہ
خصوصیت: ایٹمی دھماکوں، برقی مقناطیسی حملوں (EMP) اور شدید دشمنانہ ماحول میں بھی کمانڈ اینڈ کنٹرول صلاحیت برقرار رکھتا ہے
استعمال: امریکی صدر، وزیر دفاع اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی محفوظ فضائی کمانڈ
پہلا استعمال: 11 ستمبر 2001ء کے دہشتگرد حملوں کے دوران
  موجودہ تناظر
ایران-اسرائیل کشیدگی میں اضافہ
روسی وزارت خارجہ کا انتباہ: امریکا اسرائیل کی براہ راست عسکری مدد سے باز رہے
ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کا بیان: ایران دھمکیوں کے جواب میں سرینڈر نہیں کرے گا، حملے کا سخت ردعمل ہوگا
امریکی پوزیشن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ عسکری شمولیت کے اشارے
  طیارے کی آمد کی وجہ؟
اگرچہ واشنگٹن میں E-4B کی پرواز کی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی گئی، مگر دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے کسی ممکنہ "کنفلکٹ موڈ" کی تیاری کا عندیہ ہو سکتی ہے۔

  تجزیہ
یہ پیش رفت اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو غیرمعمولی حد تک سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ’ڈومز ڈے‘ طیارے کی سرگرمی ایک احتیاطی اقدام بھی ہو سکتی ہے، یا ممکنہ طور پر کوئی خفیہ جنگی تیاری بھی اس کے پیچھے ہو سکتی ہے۔