850تھیلے غیرمعیاری کھاد سمگل کرنے والا ٹرالر 2019میں پکڑا گیا:وکیل
دوبارہ سماعت کر کے سمگلنگ میں ملوث ہونیکا فیصلہ کریں :لاہور ہائیکورٹ
لاہور(خصوصی رپورٹ)لاہور ہائیکورٹ نے سمگلنگ میں ضبط کیے گئے ٹرالر کو چھوڑنے کے کسٹم ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ سماعت کر کے ٹرالر کے سمگلنگ میں ملوث ہونے کا فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے محکمہ کسٹم کی درخواست پر سماعت کی،محکمہ کسٹم کی جانب سے ایڈووکیٹ کلیم الیاس نے دلائل دئیے کہ کسٹم ٹربیونل نے حقائق کی تحقیقات کیے بغیر فیصلہ جاری کیا،کسٹم حکام نے 2019 میں 850 تھیلے غیر معیاری کھاد سمگل کرنے والا ٹرالر پکڑا جسے کسٹم حکام نے ضبط کر لیا تھا،ٹرالر مالکان کی درخواست پر کسٹم ٹربیونل نے ٹرالر چھوڑنے کا حکم دیا،کسٹم ٹربیونل نے فیصلے میں قرار دیا کہ ٹرالر کا مالک ٹرانسپورٹر ہے،اسے مال کی نوعیت کا علم نہیں،اگر ٹرالر میں سمگلنگ کے مال کے علاوہ دیگر افراد کا مال بھی ہو تو کسٹم حکام اسے ضبط نہیں کرتے،اگر ٹرالر سمگلنگ میں ملوث صرف ایک ہی شخص کا مال لے جا رہا ہے تو اسے ضبط کیا جاتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ ٹرالر ایک شخص کا مال لے جا رہا تھا یا زیادہ اشخاص کا،ایڈووکیٹ کلیم الیاس نے بتایا کہ اس کا فیصلہ کسٹم ٹربیونل نے کرنا ہے،مگر اس کی تحقیق نہیں کی گئی،عدالت کسٹم ٹربیونل کا حکم کالعدم قرار دے،عدالت نے دلائل سننے کے بعد کسٹم ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹربیونل کو دوبارہ سے سماعت کر کے ٹرالر کے سمگلنگ میں ملوث ہونے یا نہ ہونے کا فیصلے کرنے کا حکم دے دیا۔