پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے سینیٹ اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن خصوصاً پیپلز پارٹی پر 27ویں ترمیم کے حوالے سے تنقید کی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے 73 کے آئین کو کسی صورت میں محدود یا قدغن لگانے کی اجازت نہیں دی ہے اور اس کے تحفظ کے لیے قربانیاں دی ہیں۔شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ یہ دن اتفاق رائے کا ہے، اور اگر تھوڑا پیچھے ہٹ کر صورتحال کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ پیپلز پارٹی نے اپنا تشخص برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینی ترمیم ان ایوانوں کا حق ہے اور یہ ذمہ داری سب کی ہے کہ ہم سب کے حقوق کا تحفظ کریں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس ترمیم پر کسی طرح کی طویل مشاورت نہیں ہوئی، اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ آئین اور اس ترمیم کا تفصیلی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ 18ویں آئینی ترمیم کا ریورس نہیں، بلکہ اس کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔ شیری رحمٰن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کے وسائل اور ان کی تقسیم سب سے اہم مسئلہ ہے، اور پیپلز پارٹی عوامی نمائندگی کو بہت اہمیت دیتی ہے۔انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے پر ایوان میں تفصیلی بحث کروائی جائے، کیونکہ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر بحث جاری ہے اور یہ پیپلز پارٹی کی طرف سے ہی شروع کی گئی ہے۔