پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی 27 ویں آئینی ترمیم پر لین دین کرکے مک مکا کے چکر میں ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلزپارٹی اس پیکیج کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے کچھ لین دین سے کام چلا رہی ہے۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ بلاول کے نانا اور والدہ نے جمہوریت کے لیے بہت خدمات انجام دیں، اور 73 کا آئین ان کا بڑا تحفہ تھا۔انہوں نے پیپلزپارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین کے تحفظ کے لیے کھڑی ہو، لیکن انہیں خدشہ ہے کہ پارٹی مک مکا کے چکر میں ہے اور کچھ رہنماؤں کی حمایت جبکہ کچھ کو مسترد کردیا جائے گا۔ اسد قیصر نے مزید کہا کہ اگر پیپلزپارٹی اس موقع پر کھڑی ہوگئی تو یہ ان کی عملی سیاست میں واپسی کا آغاز ہوگا۔
اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا سائلین کے ساتھ رویہ اور عدلیہ میں چھیڑ چھاڑ سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوگی، اور تین رکنی بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونا عدلیہ پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ججز خود کھڑے نہیں ہوں گے، عدلیہ آزاد نہیں ہوگی، اور موجودہ حالات میں ملک میں انصاف ناپید ہوچکا ہے۔اسد قیصر نے کے پی ہاؤس پر پولیس کے چھاپے کو نفرت بڑھانے کا مترادف قرار دیا اور کہا کہ ایسی کارروائیاں آئینی تحفظ والی جگہوں پر فیڈریشن کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے حامد رضا کی جمہوریت اور قانون کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے مقدمات کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا۔