امریکی عدالت نے ایک 28 سالہ خاتون ٹیچر کو تقریباً 10 ملین امریکی ڈالر (ایک کروڑ روپے کے قریب) ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جسے 2023 میں ایک چھ سالہ طالب علم کی فائرنگ سے زخم آئے تھے۔
یہ واقعہ جنوری 2023 میں اس وقت پیش آیا جب ٹیچر اپنی پہلی جماعت کے کلاس روم میں پڑھ رہی تھی۔ بچے کی طرف سے چلائی گئی گولی اس کے سینے میں لگی، جس کے نتیجے میں وہ تقریباً دو ہفتے ہسپتال میں زیر علاج رہی اور اسے چھ سرجریوں کی ضرورت پیش آئی۔ اس کا بایاں ہاتھ ابھی بھی مکمل فعال نہیں ہے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ اسسٹنٹ پرنسپل، ایبونی پارکر، کو بھی سابقہ خبردار کیے جانے کے باوجود کارروائی نہ کرنے کے لئے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ پرنسپل کے خلاف 40 ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ بھی دائر کیا گیا تھا۔ بچے کی والدہ کو اسلحہ رکھنے اور غفلت برتنے کے جرم میں 4 سال قید سنائی جا چکی ہے۔ اس واقعہ کے بعد سے، خاتون ٹیچر کو جسمانی اور ذہنی صدمہ کا سامنا ہے۔