غلام مصطفے مغل
ہمیشہ سے ایک بات سنتے چلے ا ٓرہے ہیں جب نیتوں میں فتور آ جائے تو ہر چیز ناممکن ہوتی نظر اتی ہے جس طرح بے ایمان ادمی کو حلال کا رزق کمانا مشکل نظر اتا ہے اور ہمیشہ یہ بات سوچتا رہتا ہے کہ کس طرح حرام کے ذرائع سے روزی کما کر اخراجات پورے کرے اگر نیت صاف ہو تو اللہ تعالی حلال کی کمائی اگر کم بھی ہو تو گھر کے مالی معاملات بڑے احسن طریقے سے جلا دیتا ہے اسی طرح اگر حکمرانوں اور بیروکریسی کی نیتیں صاف ہوں تو مشکل مسائل بھی ایک لمحہ میں حل ہو جاتے ہیں اور اگر حکمرانوں اور بیوروکریسی کی نیتوں میں فتور ا جائے تو پھر عوامی مسائل حل ہونا ناممکن نظر اتے ہیں ضلع قصور تحصیل کوٹ رادھا کشن میں رائیونڈ سے مانگا تک درجنوں چھوٹی بڑی فیکٹریاں ہیں جن میں ہزاروں مزدور دور دراز علاقوں سے ا کر روزی کماتے ہیں فیکٹری مالکان کسی نہ کسی حد تک اربوں روپے انکم ٹیکس"سیل ٹیکس وغیرہ کی مدد میں قومی خزانے میں جمع کراتے ہیں حکومت وقت کا فرض ہوتا ہے کہ فیکٹری مالکان اور انڈسٹریل زون کو بنیادی سہولیات فراہم کریں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں اور ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے پاکستان میں یہ کلیہ الٹ چلتا ہے حکمران وسائل صرف اپنی عیش و عشرت پوری کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں حکومت ہر وقت بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے عوض ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے کے بلند و باگ دعوے کرتی نظر اتی ہیں مگر حقیقت میں یہ سارا کام صرف زبانی کلامی ہوتا ہے جب بھی کوئی ملکی یا غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ایف?بی?ار انکم ٹیکس اور دیگر سرکاری محکمیں سرمایہ کار کے لیے اتنی مشکلات پیداکرتے ہیں کہ سرمایہ کار یا تو اپنا ارادہ بدل لیتا ہے اگر سرمایہ لگا بھی دے تو ساری زندگی پچھتاتا رہتا ہے اسی وجہ سے وزیراعظم پاکستان کے خاندان سمیت ہر سیاست دان نے اپنا سرمایہ پاکستان سے باہر یورپ"دبئی? بھارت وغیرہ میں لگا رکھا ہے حالانکہ اگر سیاست دانوں، حکمرانوں،کی نیتوں میں فتور نہ ہو تو بیوروکریسی کو لگام دے کر اس قسم کی پالیسیاں اپنائیں کہ ملکی،غیرملکی سرمایہ کار ہنسی و خوشی اپنا سرمایہ پاکستان میں لگانے پر فخر محسوس کریں لیکن اس ملک کیسرکاری محکموں کا حال یہ ہے کہ
"ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے کس کس سے اپنا دامن بچاؤ گے"
سرکاری محکموں کی کرپشن اور سخت پالیسیوں کی وجہ سے ملکی،غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سے تیزی کے ساتھ اپنا سرمایہ سمیٹ کر دوسرے ملکوں میں منتقل کر رہے ہیں حکمرانوں کی باتوں اور وعدوں پر کوئی بھی سرمایہ کار اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہورہا
ضلع قصور کے علاقہ گلیمر سے راوی روہی تک کوئی تین کلو میٹر کا ایریاکی سڑک گزشتہ کئی سالوں سے سڑک نہ صرف ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی بلکہ نکاسی اپ کے نالوں کا لیول نہ ہونے کی وجہ سے نکاسی آب کینالے کا پانی گزشتہ ایک سال سے سڑک پر قبضہ جمائے ہوئے تھا،فیکٹری مالکان ملازمین اور مقامی دکانداروں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا تھا یہاں تک نکاسی آب کا پانی دکانوں اور فیکٹریوں کے اندر داخل ہوتا رہتا تھا تمام تر شکایات کے بعد باجود سرکاری محکموں نے اس مسئلہ کو حل کرنے میں مکمل طور پر بے رخی اختیار کر رکھی تھی اس سڑک پر چنگ چی رکشیاور مال بردار درجنوں گاڑیاں حادثات کا شکار ہو چکی تھی سرکاری محکموں کے کان پر جو تک نہیں رینگ رہی تھی رائیونڈ میں ایک مذہبی جماعت کے اجتماع میں انے والے شرکاء کو سہولیات فراہم کرنے اور راستے میں ہر قسم کی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ ماہ مذکورہ مذہبی جماعت کے ارکان شوری نے سی ایم پنجاب سے ملاقات کی اور اس مسئلہ کو فوری حل کرنے کی طرف توجہ دلائی سی ایم پنجاب کے حکم پر ڈپٹی کمشنر قصور، اسسٹنٹ کمشنر کوٹ رادھا کشن، اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ نے گزشتہ ہفتہ اپنی نگرانی میں گزشتہ ایک سال سے کھڑا نکاسی آب کا پانی جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا اس کو اس طریقے سے نہ صرف ختم کرایا بلکہ سڑک پر ہر قسم کی مشکلات کو بھی ختم اس طریقے سے کرایا کہ یہاں پر کسی قسم کا مسئلہ ہی نہیں تھا اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اگر حکمرانوں اور بیوروکریسی کی نیتوں میں فتور ہو تو پھر کوئی چیز بھی ممکن نظر نہیں آتی اور اگر ان کے نیتیں صاف ہو تو پھر بڑے سے بڑا مسئلہ بھی چند لمحوں میں حل ہو جاتا ہے۔۔