شہزاد راجپوت
دنیا کی سیاست بھی کیا نرالی شے ہے۔ ایک طرف ڈھول تاشے بج رہے ہیں، آسمان پر آتش بازی ہو رہی ہے، لوگ خوشی کے نغمے گا رہے ہیں اور دوسری طرف بین سننے کو مل رہے ہیں، صفِ ماتم بچھ چکی ہے، اور چہروں پر غم کے سائے ہیں۔ سعودیہ میں جشن منائے جارہے ہیں اور بھارت میں صفِ ماتم بچھ چکی ہے۔وہ سعودی عرب جسے کبھی صرف ریگستان اور تیل کا ملک سمجھا جاتا تھا آج دنیا کو حیران کر رہا ہے۔ وہاں کی قیادت اب صرف تیل کے کنوؤں پر نہیںبلکہ خوابوں کے شہروں پر نظر جمائے بیٹھی ہے۔ کھیلوں کے میدانوں میں سعودی عرب عالمی سطح کے ٹورنامنٹ کروا رہا ہے۔ خواتین ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہیں اور معیشت سرمایہ کاروں کے لیے کشش کا مرکز بن چکی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے صحرا نے سچ مچ سبزہ اوڑھ لیا ہو۔اب آئیے بھارت کی طرف۔ وہاں کا حال یہ ہے کہ ترقی کے دعوے صرف ٹی وی چینلز کے انکرز کی چیخ و پکار تک محدود ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ معیشت کی رفتار کچھوے سے بھی سست ہے۔ غربت کا عفریت عام آدمی کو نگل رہا ہے اور اقلیتیں ہر روز خوف کے سائے میں جی رہی ہیں۔ عالمی سطح پر بھارت کی سفارتکاری ایسے دھڑام سے گری ہے جیسے ہوا کے جھونکے سے مٹی کا کھلونا۔ نتیجہ یہ ہے کہ جہاں ایک طرف سعودی عرب میں خوشیاں تقسیم ہو رہی ہیںوہاں بھارت میں ماتمی بین بجاتے لوگ اپنے حال پر رو رہے ہیں۔ایک طرف سعودی عرب ویژن 2030 کے ساتھ دنیا کو بلا رہا ہے اور دوسری طرف بھارت کے پاس سوائے نفرت 2025 کے کوئی منصوبہ دکھائی نہیں دیتا۔ عرب دنیا عالمی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہہ رہی ہے اور بھارت اپنے ہی شہریوں کو غدارقرار دے کر نکال باہر کرنے پر تلا ہوا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ایک ملک صدیوں کے سفر کو چند دہائیوں میں طے کر رہا ہے اور دوسرا ملک صدیوں پیچھے جانے کی ضد پر ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جشن ہمیشہ محنت اور ویژن کے نتیجے میں آتا ہے جبکہ صفِ ماتم ہٹ دھرمی اور غلط پالیسیوں کی دین ہوتی ہے۔ آج اگر سعودی عرب اپنی کامیابیوں پر جشن منا رہا ہے تو یہ ان کی دور اندیشی ہے اور اگر بھارت نوحے گا رہا ہے تو یہ اس کی اپنی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ دنیا بس یہ منظر دیکھ کر مسکرا رہی ہے۔!ادھر قہقہے ہیں، ادھر سسکیاں۔ادھر کامیابی ہے، ادھر ناکامیاں!