دولت قدموں میں، کشکول ہاتھ میں

ارشد مہدی جعفری
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل، معدنی دولت اور انسانی صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ کوئلہ، سونا، گیس، نمک، لیتھیم، تانبا اور سوڈیم جیسے اہم عناصر کی موجودگی، اور اس کے ساتھ ساتھ زرخیز زمین، چار موسم، نوجوان آبادی، اور سٹریٹجک جغرافیہ اسے ایک مضبوط اور خود کفیل ملک بنا سکتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ تمام وسائل، محض کتابوں، رپورٹوں، اور تقاریر کا حصہ بن چکے ہیں، اور عمل کے میدان میں ہم روزبروز پیچھے جا رہے ہیں۔
معیشت کا حال یہ ہے کہ ہر سال بلکہ ہر چند ماہ بعد ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سامنے دست سوال دراز کرنا پڑتا ہے۔ قرضوں کی قسطوں کے لیے حکومتی وفود دنیا بھر کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، اور عوام پر مہنگائی، ٹیکس اور بیروزگاری کا بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اپنی تنخواہوں اور مراعات میں کئی سو فیصد اضافہ کر لیتے ہیں، بغیر اس بات کی پرواہ کیے کہ عام شہری دو وقت کی روٹی کے لیے کتنی جدوجہد کر رہا ہے، اور اچنبھے کی بات یہ کہ اس عمل پر آئی ایم ایف بھی معترض نہیں ہوتی۔ ریاستی اخراجات میں اس قدر تضاد اور انصاف کے نظام میں اس قدر کمزوری، کسی بھی ملک کو ترقی کی طرف نہیں لے جا سکتی۔
پاکستان جیسا ملک، جو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا پہاڑی نمک پیدا کرنے والا ہے، بھارت کو یہ نمک انتہائی سستے داموں برآمد کرتا ہے۔ بھارت وہی نمک پروسیس کر کے "ہمالین سالٹ" کے نام سے مہنگے داموں عالمی مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے۔ یہی نہیں، سوڈیم آئن بیٹری ٹیکنالوجی جو مستقبل میں توانائی کے ذخیرے کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے، اس کے لیے درکار سوڈیم پاکستان کے پہاڑی نمک سے حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم نے ابھی تک ایسا کوئی بھی صنعتی ڈھانچہ نہیں بنایا جس سے ہم خود اس نعمت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ نہ ہمارے پاس الیکٹرولائسز پلانٹس ہیں، نہ بیٹری مینوفیکچرنگ کی سہولت، نہ تحقیقی لیبارٹریز۔ یہی وہ مواقع ہیں جنہیں ہم نے کھو دیا اور مسلسل کھو رہے ہیں۔
اسی طرح کوئلہ، گیس اور سونے کے ذخائر برسوں سے دریافت ہو چکے ہیں۔ ایران سے گیس درآمد کا منصوبہ بین الاقوامی دباو? اور داخلی سیاسی چپقلش کا شکار ہے۔ گلگت بلتستان جیسے خطے جہاں قیمتی پتھروں، پانی، معدنیات اور جنگلات کی بھرمار ہے، آج بھی ایک مکمل آئینی شناخت کے لیے ترس رہا ہے۔ وہاں کے عوام کو آج بھی پاکستان کے دیگر شہریوں کے برابر آئینی و معاشی حقوق حاصل نہیں، حالانکہ وہ ساری ریاستی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کاظم میثم نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کسی بھی حکومتی کوشش کو وقت کے یزید سے بیعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ "چوبیس کروڑ عوام ان حکمرانوں کو یزید کی طرح گالی بنادیں گے جو وقت کے یزید سے تعلقات کے لیے آگے بڑھے"۔ ان کے اس بیان میں نہ صرف اسرائیل کی مخالفت کا موقف واضح ہے بلکہ وہ اس نظام پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں جو اپنے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر مفاداتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستان میں سائنسی و صنعتی ترقی کا حال یہ ہے کہ آج تک ہم توانائی بحران پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ شمسی توانائی، پن بجلی، اور متبادل توانائی ذرائع کے لیے ہمارے پاس نہ جامع پالیسی ہے، نہ مؤثر حکمتِ عملی۔ یونیورسٹیاں تحقیق کی بجائے ڈگری فیکٹریوں میں بدل چکی ہیں، اور تحقیقی ادارے بجٹ نہ ہونے کے سبب بند ہونے کے قریب ہیں۔ پائلٹ پلانٹس یعنی ایسے ابتدائی صنعتی یونٹ جو کسی نئی ٹیکنالوجی کو محدود سطح پر آزماتے ہیں، ان کا قیام نہ ہونے کے باعث ہم کسی بھی نئی صنعت کی بنیاد نہیں رکھ پا رہے۔
اس سب کے باوجود اگر کوئی سوال اٹھاتا ہے تو اسے ملک دشمن یا مذہبی شدت پسند قرار دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ یہی جمہوریت کے ساتھ ہماری وفاداری ہے۔ ایسے میں عوام کو صرف دو وقت کی روٹی نہیں، انصاف، عزت، تعلیم اور صحت کی بھی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔
حل کیا ہے؟ پہلا قدم یہ ہے کہ ملکی ترقی کی بنیاد قدرتی وسائل کے بہتر استعمال پر رکھی جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعتی اداروں، جامعات، اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر سوڈیم آئن بیٹری جیسے منصوبوں پر کام کرے۔ چین کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے معاہدے کیے جائیں، اور مقامی سطح پر پائلٹ پلانٹس قائم کیے جائیں تاکہ ہم خام مال برآمد کرنے کی بجائے تیار مصنوعات کی عالمی منڈی میں شرکت کر سکیں۔
دوسرا قدم یہ ہے کہ گلگت بلتستان اور دیگر پسماندہ علاقوں کو مکمل آئینی شناخت، مالی خودمختاری، اور ترقیاتی ترجیحات دی جائیں۔ اگر ان علاقوں کو بھی مساوی حق دیا جائے تو وہاں سے حاصل ہونے والے قدرتی وسائل کو مقامی ترقی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تیسرا، سینٹ، اسمبلی اور سرکاری اداروں کے اخراجات کو فوری طور پر کم کیا جائے۔ عوامی نمائندوں کی مراعات پر قدغن لگائی جائے، اور شفاف احتساب کا نظام رائج کیا جائے۔ عدالتی اصلاحات کی جائیں تاکہ انصاف جلد اور سب کے لیے مساوی طور پر دستیاب ہو۔
چوتھا، جامع قومی صنعتی پالیسی ترتیب دی جائے جس میں خام مال کی بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو برآمد کرنے کو ترجیح دی جائے۔ تمام قدرتی ذخائر کو استعمال میں لانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے، اور سیاسی مداخلت سے پاک خودمختار اداروں کے ذریعے اس پر عمل درآمد کرایا جائے۔
یہ سب کرنا نہ مشکل ہے، نہ مہنگا۔ اگر ہم اپنے مفادات اور بیرونی دباؤ سے بالاتر ہو کر ریاست کے مفاد میں فیصلے کرنے لگیں تو یہی وسائل ہمیں اقتصادی خودمختاری، معاشی خوشحالی اور بین الاقوامی وقار عطا کر سکتے ہیں۔ ورنہ یہی نعمتیں ہمارے لیے لعنت بن جائیں گی۔