اسرائیلی حملے جاری، جنگ بندی کے باوجود لبنان میں 12 ہلاک، بچوں سمیت زخمی

اسرائیلی حملے جاری، جنگ بندی کے باوجود لبنان میں 12 ہلاک، بچوں سمیت زخمی

لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں دو بچے اور ایک امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔

 یہ حملے جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ اور مرجعیون کے مختلف دیہات میں کیے گئے، جن میں رہائشی عمارتوں، بازاروں اور دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے دوران امدادی ٹیموں پر بھی حملے ہوئے، جس میں حزب اللہ سے وابستہ ریسکیو سروس کا ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا۔یہ حملے ایک روز قبل اس وقت شدت اختیار کر گئے جب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس حملے میں حزب اللہ کی "رضوان فورس" کے ایک کمانڈر کو ہلاک کیا گیا۔ جنگ بندی کے باوجود، 17 اپریل سے جنوبی لبنان میں جھڑپیں اور فضائی حملے جاری ہیں، جو علاقائی امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔لبنانی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے دریائے لیتانی کے شمال میں واقع چند دیہات کے لیے نئی انخلا وارننگز بھی جاری کی ہیں۔ دوسری طرف، حزب اللہ بھی اسرائیلی فوجی پوزیشنز پر حملوں کے دعوے کرتی رہی ہے۔
ادھر، لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ مستقل جنگ بندی ہی مستقبل کے مذاکرات کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل اور لبنان کے نمائندے آئندہ ہفتے واشنگٹن میں نئے امن مذاکرات کریں گے، جن میں سرحدی کشیدگی، جنگ بندی اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت ہوگی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 14 اور 15 مئی کو ہونے والے مذاکرات میں یہ امور زیر بحث آئیں گے۔