میلیسا بریرا نے دباؤ کے باجود فلسطین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا

میلیسا بریرا نے دباؤ کے باجود فلسطین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا

 امریکی اداکارہ میلیسا بریرا کے فلسطین اور غزہ کے حوالے سے جاری حمایت اور اس کے پیشہ ورانہ اثرات کے بارے میں ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کی آواز دبائی نہیں جا سکتی، چاہے اس کی قیمت انہیں اپنے فلمی کیریئر میں مشکلات کی صورت میں ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔  انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2023 کے بعد سے فلسطین کے حق میں کھل کر آواز بلند کرنے، امدادی سرگرمیاں شیئر کرنے اور انسانی حقوق کے لیے بات کرنے پر انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے نتیجے میں انہیں ہالی ووڈ کی معروف فرنچائز "Scream 7" سے نکال دیا گیا اور ان کی ٹیلنٹ ایجنسی WME نے بھی ان سے راہیں جدا کیں۔  اداکارہ کا کہنا ہے کہ ان کی فلسطین نواز پوسٹس کو بعض حلقوں نے ’یہود مخالف‘ قرار دیا اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا، مگر انہوں نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صرف انسانیت، امن، آزادی اور مظلوموں کے حقوق کے لیے ہے۔  بریرا کا کہنا ہے کہ وہ خاموش رہنے پر یقین نہیں رکھتیں، کیونکہ جب دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں حمایت اور آواز کی ضرورت ہے، تو خاموشی اختیار کرنا درست نہیں۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ مستقبل میں بھی فلسطین اور غزہ کے حق میں آواز بلند کرتی رہیں گی۔  انہوں نے اپنی پروڈکشن کمپنی کے قیام پر بھی توجہ دی ہے تاکہ وہ ایسے ہدایتکاروں، لکھاریوں اور فنکاروں کے ساتھ کام کریں جو فلسطین کے مسئلے پر واضح اور جرات مندانہ مؤقف رکھتے ہوں۔  بریرا کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے سیاسی اور انسانی مؤقف نے انہیں فلم انڈسٹری میں مشکلات کا سامنا کیا ہے، مگر وہ اصولوں سے پیچھے ہٹنے کے حق میں نہیں۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی سچ کے ساتھ کھڑے رہنے میں ہے۔