پاکستانی اداکار نعمان مسعود نے حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت ریسٹورنٹس اور کیفے کے اوقاتِ کار محدود کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اس معاملے پر فوری توجہ دینے کی درخواست کی ہے۔
اپنے انسٹاگرام ویڈیو پیغام میں نعمان مسعود نے بتایا کہ وہ عموماً اپنے مداحوں کے ساتھ خوشگوار انداز میں بات چیت کرتے ہیں، مگر اس بار ان کی آواز میں پریشانی اس لیے ہے کیونکہ یہ مسئلہ صرف ان کے ذاتی کاروبار تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کے دوستوں، ملازمین اور ریسٹورنٹ انڈسٹری سے وابستہ بہت سے افراد کے روزگار سے جُڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں جنگی صورتحال اور حکومتی پابندیوں کے باعث ریسٹورنٹ بزنس شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اگرچہ کاروباری طبقہ حکومتی اقدامات کو سمجھتے ہوئے تعاون کی کوشش کر رہا ہے، مگر موجودہ حالات میں رات گئے تک کھانے پینے کے مراکز بند کرنے کی پابندی نے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔نعمان مسعود کے مطابق، گرمیوں کے موسم میں زیادہ تر لوگ دفاتر سے واپسی، آرام اور روزمرہ مصروفیات کے بعد رات گئے اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے باہر نکلتے ہیں، اور پاکستان میں فیملی انٹرٹینمنٹ کے لیے ریسٹورنٹس، کیفے اور کافی شاپس اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں جلد بندش کاروبار کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے بڑے تمام ریسٹورنٹس اپنے عملے کے ہمراہ اس وقت شدید مالی دباؤ میں ہیں۔ مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور محدود اوقاتِ کار کے باعث مالکان کے لیے ملازمین کی تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ پہلے وہ اپنے عملے کے مسائل حل کر لیتے تھے، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ صرف بنیادی تنخواہیں دینا بھی ایک مشکل ہے۔نعمان مسعود نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی پر دوبارہ غور کرے تاکہ ریسٹورنٹ انڈسٹری کو کچھ ریلیف مل سکے، کیونکہ یہ شعبہ نہ صرف ہزاروں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ شہریوں کے لیے تفریح کا اہم وسیلہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی دباؤ کے دور میں کاروبار اور ملازمین دونوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی پالیسی میں توازن ضروری ہے تاکہ اس شعبے کو زیادہ نقصان سے بچایا جا سکے۔