2سال میں ادویات کی قیمتوں میں100فیصد اضافہ

ملک میں 659دوا ساز کمپنیاں ، 394ادارے بیرون ملک سے دوائیں درآمد کرتے ہیں
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران مختلف ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی ارکان کی جانب سے ملک میں دواں کی قیتموں میں اضافے پر شدید تنقید کی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2024 میں نگراں حکومت کے دور میں دواں کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا جب سے کمپنیاں قیمتوں کا تعین خود کرتی ہیں، 2 سال کے دوران مختلف دواں کی قیمتوں میں 100فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ قانون کے مطابق ڈریپ صرف زندگی بچانے والی دواں کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرسکتی ہے جب کہ وفاقی وزیر صحت مصفطی کمال نے کہا کہ دواں کی قیمتوں کی کمی یا اضافے میں وزارت صحت کا کوئی کردار نہیں۔کمیٹی نے ڈریپ سربراہ سے دوائوں کی قیمتوں کے تعین کا فارمولہ طے کرنے کے ساتھ ساتھ ادارہ شماریات حکام کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔قائمہ کمیٹی نے کہا کہ اس سے پتا چلتا ہے پاکستان میں فارماسیوٹیکل کے کاروبار سے زیادہ منافع بخش کوئی کاروبار نہیں، یہ کسی صورت قابل قبول نہیں کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کوکھلی چھٹی دے دی جائے، اس قانون پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ڈریپ کے سربراہ ڈاکٹر عبید اللہ نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 659 دوا ساز کمپنیاں ہیں، 394 ادارے بیرون ملک سے دوائیں اور ویکسین درآمد کرتے ہیں، پاکستانی ادویہ 51 ملکوں کو برآمد ہو رہی ہیں جب کہ گزشتہ سال پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی سیل ایک کھرب32کروڑ روپے رہی۔