غزہ میں اسرائیلی حملہ، پانچ افراد جاں بحق،حماس سربراہ کا بیٹا زخمی

غزہ میں گرمی کے آتے ہی پناہ گزین کیمپوں میں جلدی بیماریاں پھیلنے لگیں:میڈیارپورٹس
غزہ(آئی این پی )غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران حماس کے سینئر رہنما اور مذاکرات کار خلیل الحیہ کے بیٹے عزام الحیہ شدید زخمی جبکہ  کم از کم 5 فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ حماس نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات فلسطینی مزاحمت کو مزید مضبوط کریں گے۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق  ذرائع اور حماس کے قریبی ذرائع  نے بتایا ہے کہ   اسرائیلی فضائی حملوں میں خلیل الحیہ کے بیٹے عزام الحیہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ذرائع کے مطابق غزہ سٹی میں ہونے والے اس حملے میں ایک اور شخص بھی جاں بحق ہوا، جبکہ غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مجموعی طور پر کم از کم 5 افراد جان سے گئے۔خلیل الحیہ حماس کے جلاوطن غزہ چیف سمجھے جاتے ہیں اور وہ اسرائیل کے ساتھ غزہ کے مستقبل سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کی قیادت کر رہے تھے۔رپورٹ کے مطابق خلیل الحیہ اس سے قبل بھی اسرائیلی حملوں میں اپنے تین بیٹوں کو کھو چکے ہیں۔ ان کے دو بیٹے 2008 اور 2014 کی جنگوں کے دوران غزہ میں مارے گئے تھے، جبکہ تیسرا بیٹا گزشتہ سال دوحہ میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی کوشش کے دوران ہلاک ہوا تھا۔حماس رہنما اور خلیل الحیہ کے معاون طاہر النونو نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ عزام خلیل الحیہ کو بمباری کا نشانہ بنانا اخلاقی اور انسانی گراوٹ کی انتہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بمباری اور قتل مذاکرات کاروں کو اپنے مقف، اپنے عوام کے حقوق اور ان کی آزاد مرضی کے دفاع میں مزید ثابت قدم بناتے ہیں۔  اسرائیلی فوج کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں جِلدی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ گرمی بڑھنے کے ساتھ صحت کا نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے فلسطینی پناہ گزین ادارے (انروا) کے مطابق غزہ میں حالیہ مہینوں میں جِلدی بیماریوں کے کیسز میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے، خارش، چیچک اور دیگر بیماریاں خاص طور پر بچوں میں تیزی سے پھیل رہی ہیں جس کی بڑی وجہ شدید بھیڑ، خراب صفائی اور گرم موسم ہے۔عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں 2024 کے دوران کم از کم 1 لاکھ 50 ہزار افراد جِلدی امراض کا شکار ہوئے، طبی سامان کی قلت اور اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث صورتِ حال مزید سنگین ہو رہی ہے۔پناہ گزین فوزی النجار نے الجزیرہ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ لاکھوں لوگ انتہائی خراب حالات میں رہنے پر مجبور ہیں، کیمپوں میں کچرا، چوہے، کھٹمل، پسو اور آوارہ جانور بیماریوں کے پھیلا کا سبب بن رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے انکشاف کیا ہے کہ مارچ میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام کیمپوں میں جِلدی بیماریوں سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر تقریبا 10 ہزار ہو گئی جبکہ جنوری میں یہ تعداد 3 ہزار تھی۔عرب میڈیا کے مطابق خان یونس میں طبی عملہ ہزاروں خیموں میں جراثیم کش اسپرے کر رہا ہے تاہم دواں اور اسپرے کی شدید کمی کے باعث تمام کیمپوں تک رسائی ممکن نہیں۔