معرکہ حق میں اہم ٹارگٹ نشانے پر تھے ، فیلڈ مارشل کو اللہ کی خصوصی مدد حاصل ہے محسن نقوی

 پاکستان کے جوابی اقدامات کے بعد انڈیا کو سفید جھنڈا لہرانا پڑا اور جنگ بندی کی اپیل کرنا پڑی‘ پاکستانی نوجوانوں نے سائبر حملوں کو بھی کامیابی سے ناکام بنایا
ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے جو کیا میں تو خود حیران تھا،بھارت سے  ایسے معلومات آ رہی تھیں جیسے اپنا ملک ہو، امریکی صدر نے بھارت کو بڑے نقصان سے بچایا :پریس کانفرنس
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی  نے کہا ہے  معرکہ حق میں اللہ کی مدد سے پاکستان کو کامیابی ملی جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اللہ کی خصوصی مدد حاصل ہے، پاکستان کے جوابی اقدامات کے بعد انڈیا کو سفید جھنڈا لہرانا پڑا اور جنگ بندی کی اپیل کرنا پڑی، پاکستانی نوجوانوں نے سائبر حملوں کو بھی کامیابی سے ناکام بنایا،یہ سب اس نوعیت کی جنگ میں پہلی بار ہوا، قومی میڈیا نے بہترین کارکردگی دکھائی اور پوری قوم کو متحد رکھا، جبکہ انڈین میڈیا مسلسل دبا اور انتشار کا شکار رہا،معرکہ حق میں اہم ٹارگٹس ہمارے نشانے پر تھے، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے جو کیا میں تو خود حیران تھا، ایسے معلومات آ رہی تھیں جیسے اپنا ملک ہو، امریکی صدر نے بھارت کو بڑے نقصان سے بچایا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کے ساتھ پریس کانفرنس   میں کیا۔محسن نقوی کا کہنا تھا معرکہ حق میں اللہ تعالی کی مدد سے پاکستان کو کامیابی ملی، ملک بھر میں معرکہ حق سے متعلق تقریبات ہورہی ہیں۔ان کا کہنا تھا بھارت نے چھوٹے اور درمیانے سائز کے ڈرون ہمارے مختلف علاقوں میں بھیجے، بھارتی ڈرون تھوڑی تعداد میں پاکستان پہنچے، اکثر ڈرونز کو بارڈر پر ہماری رینجرز نے تباہ کیا، بھارت کی کوشش تھی کہ سائبر حملے کرے، لیکن سائبر حملوں میں بھارت ہمارے نزدیک بھی نہیں آتا تھا۔وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ بھارت نے ہماری تقریبا 100 کے قریب پوسٹوں پر اس وقت حملہ کیا تھا، اور اللہ کا شکر ہے کہ ان کو اسی طرح کا جواب ملا جس کے وہ مستحق تھے، آپ کے سامنے وہ تصویریں بھی موجود ہیں جن میں انہیں ایل او سی پر خود سفید جھنڈا لہرانا پڑا کہ اب بس کر دیں۔وزیر داخلہ کے مطابق سائبر اٹیک کی بھی انہوں نے کوشش کی کہ کہیں نہ کہیں کامیاب ہو جائیں، یہ وہ ساری چیزیں ہیں جو جنگوں میں نئے طریقوں سے استعمال ہوتی ہیں، جو عام جنگ سے بالکل مختلف ہیں، اللہ  کا شکر ہے کہ سائبر حملوں میں وہ ہم تک پہنچ نہیں سکے،جو ہمارے نوجوانوں نے ان کے ساتھ کیا، وہ بہتر وہی بتا سکتے ہیں کیونکہ ان کا کوئی نظام ایسا نہیں تھا جو محفوظ رہ گیا ہو۔