بھارت کی پی ایس ایل مخالف مہم، غیر ملکی کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش

بھارت کی پی ایس ایل مخالف مہم، غیر ملکی کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش

ویب ڈیسک: بھارت نے میدانِ جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے اور لیگ میں شامل غیر ملکی کھلاڑیوں کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا کر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بھارتی انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی نے اپنے روایتی حربوں کا سہارا لیتے ہوئے انڈین میڈیا کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ پی ایس ایل کو بدنام کیا جا سکے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پی ایس ایل میں شریک غیر ملکی کھلاڑیوں کی سیکیورٹی خطرے میں ہے۔رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے سات کھلاڑی — سیم بلنگز، جیمز ونس، ٹام کرن، ڈیوڈ ولی، کرس جارڈن، ٹام کوہلر-کینمور اور لیوک ووڈ — پی ایس ایل میں شامل ہیں، جن میں سے چند نے وطن واپسی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملتان سلطانز کے کھلاڑی ڈیوڈ ولی اور کرس جارڈن نے مبینہ طور پر ٹیم سے رابطہ کیا ہے کہ وہ گھر واپس جانا چاہتے ہیں۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملتان سلطانز کی ٹیم پہلے ہی ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے اور وہ اتوار کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف اپنا آخری میچ کھیلے گی، جس کے بعد غیر ملکی کھلاڑیوں کی واپسی معمول کا حصہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ مہم دراصل ایک منظم کوشش ہے تاکہ پی ایس ایل کی مقبولیت اور پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کو سبوتاژ کیا جا سکے۔