اسلام آباد: بھارت کی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلا اشتعال مسلسل جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے سویلینز کی تعداد 31 تک جا پہنچی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 57 ہو گئی ہے۔
یہ بات پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کی شب ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کہی۔انہوں نے کہا کہ دشمن نے ایک بار پھر معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر اپنی بزدلی اور دہشتگردانہ عزائم کا ثبوت دیا ہے۔ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ پاکستان کی غیور عوام اور افواج اس عزم کا اظہار کرتی ہیں کہ شہداء کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا۔
بھارت کے اصل عزائم بے نقاب
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کے اصل عزائم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت نے جب اپنے پراکسی دہشتگردوں کے لیے پاکستان میں زمین تنگ ہوتی دیکھی، تو براہ راست اپنی فوج کے ذریعے دہشتگردی پر اتر آیا۔"انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد دنیا کے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔ معصوم بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنانا اگر دہشتگردی نہیں تو پھر اور کیا ہے؟ یہ سب کچھ عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
پاک فضائیہ کی مثالی پیشہ ورانہ جوابی کارروائی
جنرل احمد شریف نے بتایا کہ 7 مئی کی شب بھارت کی طرف سے کی گئی بزدلانہ فضائی جارحیت کے جواب میں پاک فضائیہ نے صرف ملٹری اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں بھارت کے 5 جنگی طیارے، جن میں 3 جدید رافیل شامل تھے، تباہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ 7 ڈرونز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے 2 کو مکمل طور پر قبضے میں لے لیا گیا۔انہوں نے کہا، "پاک فضائیہ نے اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جبکہ دشمن نے رات کے اندھیرے میں شہریوں کو نشانہ بنایا۔"
دشمن پوسٹوں کو مؤثر جواب
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ پاک فوج نے دشمن کی جانب سے فائرنگ کرنے والی کئی بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کیا۔ ان حملوں میں پاک افواج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
حقیقت دنیا کے سامنے
ترجمان کے مطابق، پاکستان کی حکومت نے انٹرنیشنل اور مقامی میڈیا کے تقریباً 150 صحافیوں کو بہاولپور، احمد پور شرقیہ، کوٹلی، مظفرآباد سمیت مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کرایا تاکہ وہ خود مشاہدہ کر سکیں کہ بھارت نے جن مقامات کو دہشتگردوں کے کیمپس قرار دیا، وہ دراصل مساجد، گھروں اور غریب شہریوں کی رہائش گاہیں تھیں۔ صحافیوں نے خود مقامی افراد سے انٹرویوز کیے اور ویڈیوز بنا کر دنیا کے سامنے حقیقت رکھی۔
فضائی حدود کی بندش، مسافروں کی جانوں کو خطرہ
جنرل احمد شریف نے بتایا کہ بھارتی حملے کے باعث پاکستان کو اپنی فضائی حدود بند کرنا پڑی، جس سے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی پروازیں متاثر ہوئیں۔ اس دوران فضا میں 57 پروازیں موجود تھیں، جن میں ایمریٹس، قطر ایئر، اتحاد، گلف ایئر، چائنا، کورین ایئر اور دیگر ممالک کی پروازیں شامل تھیں۔ بھارت نے ہزاروں مسافروں کی جانیں خطرے میں ڈال کر اپنی جارحیت کی سنگینی مزید بڑھا دی۔
قوم اور افواج یکجا
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افواج پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاع میں صرف جائز اور ذمہ دارانہ کارروائیاں کی ہیں، جبکہ بھارت کا ہدف ہمیشہ معصوم شہری رہے۔ انہوں نے کہا، "ہم اپنی سرزمین کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پوری قوم نے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو کر بھارت کی بزدلانہ جارحیت کو للکارا۔"