مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، جس میں غزہ کو اسرائیلی کنٹرول میں دینے اور فلسطینیوں کی بے دخلی شامل ہے۔
اس منصوبے پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے کا آغاز اسرائیل سے کیا، جہاں انہوں نے نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ روبیو نے اس موقع پر کہا کہ "حماس کا مکمل خاتمہ ضروری ہے" جبکہ نیتن یاہو نے دونوں ممالک کی "مشترکہ حکمت عملی" پر زور دیا۔سعودی عرب نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اس ہفتے ایک علاقائی اجلاس منعقد کرے گا، جس میں غزہ کے امریکی منصوبے کا متبادل حل زیر غور آئے گا۔ اس اجلاس میں مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر اور کویت کے حکام شرکت کریں گے۔ سعودی عرب نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس صورت میں تسلیم کرے گا جب ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جو اسرائیل کے موجودہ منصوبے کے خلاف ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ روبیو نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ "فی الحال صرف ٹرمپ کا منصوبہ موجود ہے"، لیکن امریکہ عرب ممالک کی تجاویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔اسرائیل نے ایران کو خطے میں "عدم استحکام کی سب سے بڑی وجہ" قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ "امریکہ کی مدد سے ایران کے خلاف کارروائی کو مکمل کریں گے"۔