اسرائیل کے شمالی علاقوں میں حالیہ دنوں میں لبنان پر اسرائیلی حملوں اور حزب اللہ کی جوابی کارروائیوں کے بعد صورت حال شدید کشیدہ ہو گئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق شمالی اسرائیل کے کئی شہروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور شہری اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے پریشان ہیں۔شمالی اسرائیل کے مختلف مقامی کونسل سربراہان نے نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس ناکامی کے باعث عوام شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں اور کئی علاقے خالی ہو رہے ہیں۔مارگالیوت کے میئر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ حزب اللہ کے حملوں سے شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اور شہری خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں کیونکہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: "ہر چیز تباہ ہو چکی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اسرائیل کی حمایت کے لیے تیار نہیں دکھائی دیتا۔"
اسی طرح کیرت شمونہ کے میئر نے بھی شہریوں کی نقل مکانی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شہر تیزی سے خالی ہو رہا ہے اور دو تہائی شہری اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مزید لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔ماہرین کے مطابق شمالی اسرائیل میں جاری کشیدگی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔ حملوں اور جوابی کارروائیوں کی وجہ سے نہ صرف شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ مقامی معیشت، نقل و حمل اور روزمرہ کی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔یہ کشیدگی خطے میں مزید تناؤ پیدا کر رہی ہے اور بین الاقوامی برادری بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، تاہم اب تک کوئی مؤثر ثالثی یا فوری امن کی کوشش سامنے نہیں آئی ہے۔