امریکہ خطے میں استحکام کی طرف واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتا ، ایران

امریکی اقدامات علاقائی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں، تمام نتائج اور اثرات کی مکمل ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی
تہران(آئی این پی )ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کو خطے کے لئے خطرناک قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باوجود کشیدگی کم کرنے کا ارادہ نہیں۔ایران کی وزارت خارجہ نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا نہ صرف کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام کی طرف واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتا بل کہ اپنے جارحانہ اور مہم جوئی پر مبنی اقدامات کے ذریعے پورے خطے کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے ایران کے ساحلی ریڈار اور نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا، جو کہ سِریک ریجن اور قشم جزیرے میں واقع تھے۔ ان حملوں کو تہران نے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔اس حوالے سے ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ان حملوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور صورتِ حال بگڑنے کا خدشہ موجود ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان کارروائیوں کے تمام نتائج اور اثرات کی مکمل ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ تہران نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے اقدامات علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔مزید برآں وزارت خارجہ نے خطے کے تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی پابندی کریں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی سرزمین اور وسائل کو کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔