یہ نہیں ہوسکتا عوام قربانی دیں ‘ اشرافیہ مراعات لے شہبازشریف
کشیدگی کے آغاز سے ہی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اسحاق ڈار، محسن نقوی اور پوری حکومتی ٹیم امن کے قیام کیلئے سرگرم رہی، دیرپا امن کے قیام سے ہی پاکستان سمیت دیگر ممالک کی معاشی ترقی کا خواب پورا ہو سکتا ہے
خواتین کو ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ، بجٹ میں بھی متعدد اقدامات کئے گئے ہیں:وزیراعظم کی لیگی خواتین ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے ایسا ممکن نہیں ہے عوام قربانی دیں اور اشرافیہ مراعات حاصل کرتی رہے۔مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں شہباز شریف نے خواتین ارکان کا خیرمقدم کیا اور جاری بجٹ اجلاس میں ان کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے دوران بجٹ، ملکی معیشت، خطے کی صورتحال اور عوامی فلاح و بہبود کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے جس قدر ممکن ہو سکا، بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ بجٹ میں خواتین کو خودمختار بنانے اور قومی دھارے میں ان کی شمولیت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین کو ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے خطے میں کشیدگی کے بادل چھٹ گئے اور امن کے قیام کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔ انہوں نے دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کی کوششوں میں ان کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔وزیراعظم نے کہا کہ کشیدگی کے آغاز سے ہی حکومت پاکستان، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور پوری حکومتی ٹیم خلوص نیت کے ساتھ امن کے قیام کے لیے سرگرم عمل رہی۔وزیراعظم نے کہا کہ خطے اور دنیا میں دیرپا امن کے قیام سے ہی پاکستان سمیت دیگر ممالک کی معاشی ترقی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ مہینوں کے دوران عوام کو مہنگائی کی عالمی لہر کے اثرات سے بچانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں ملک میں نہ کوئی بحران پیدا ہوا اور نہ ہی ایندھن کے لیے طویل قطاریں دیکھنے کو ملیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی ٹیم کی بہتر منصوبہ بندی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعاون کی بدولت نہ صرف عوام کو مشکلات سے بچایا گیا بلکہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے تاریخی ریلیف پیکیج بھی دیا گیا۔