حساس پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی ہائی الرٹ برقرار رہی ، الیکشن میں خواتین کا ٹرن آؤٹ زیادہ رہا پولنگ ایجنٹوں کو کہا کہ کوئی شکایت ہے تو بتائیں، لیکن انہوں نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں:چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز
گلگت بلتستان :( مانیٹرنگ ڈیسک) گلگت بلتستان میں الیکشن کا مرحلہ پرامن طریقے سے مکمل ہوگیا۔،گلگت بلتستان پر امن ،شفاف انتخابی دنگل میںپی پی ، ن لیگ میں کانٹے دار مقابلے ہوئے، ووٹنگ کا عمل صبح بجے سے شروع ہو کر بغیر کسی وقفے کئے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ 24 مجموعی طور پر حلقوں میں ووٹنگ کا عمل اختتام پذیر ہوا، ، پولنگ کا وقت ختم ہوتے ہی پولنگ سٹیشنز کے دروازے بند کر دیے گئے۔دوسری جانب شام 5 بجے تک قطاروں میں موجود ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔اِسی طرح گلگت بلتستان کے 1391 پولنگ سٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا، حساس اور انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی ہائی الرٹ برقرار رہی۔، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے 23، مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار میدان میں ہیں، جمعیت علمائے اسلام کے 9، اسلامی تحریک پاکستان کے 10، مجلس وحدت المسلمین کے 7، استحکام پاکستان پارٹی کے 15 امیدوار ،اس کے علاوہ پاکستان نظریاتی پارٹی کے 10 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں خواتین کا ٹرن آؤٹ زیادہ ہے، انتخابات میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہی۔گلگت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے کہا کہ پْرامن ماحول میں انتخابی عمل مکمل ہوا ہے، میں نے خود پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا۔راجہ شہباز نے کہا کہ پولنگ ایجنٹوں کو کہا کہ کوئی شکایت ہے تو بتائیں، لیکن انہوں نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں۔نگراں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان (جی بی) جسٹس (ر) یار محمد رند نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کوئی بھی دھاندلی کی شکایت نہ کرے۔گلگت میں میڈیا سے گفتگو میں یار محمد رند نے کہا کہ نگراں حکومت کا مقصد صاف اور شفاف انتخابات کروانا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواہش ہے کہ ایسے لوگ آئیں، جن کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہو، ہماری پوری کوشش ہے کہ کوئی بھی دھاندلی کی شکایت نہ کرے۔نگراں وزیراعلیٰ جی بی نے مزید کہا کہ الیکشن میں برداشت کرنا ہوتا ہے کوئی ہارتا ہے تو کوئی جیتتا ہے۔