عالمی مارکیٹ میں بدھ کے روز سونے کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں ایران پر امریکا کے تازہ حملوں، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ڈالر کی مضبوطی نے قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ کو متاثر کیا۔
عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4,125.59 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، تاہم کاروبار کے آغاز میں یہ 2 جولائی کے بعد اپنی کم ترین سطح تک بھی گر گئی تھی۔ دوسری جانب اگست کے امریکی گولڈ فیوچر کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,136.30 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مہنگائی سے متعلق خدشات میں اضافے کے باعث بانڈ مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی، جبکہ ڈالر کی قدر مضبوط ہونے سے سونے کی قیمتوں پر بھی منفی اثر پڑا۔ بعد ازاں مارکیٹ میں کچھ استحکام دیکھنے میں آیا۔عالمی میکرو تجزیہ کار ایلیا اسپیوک کا کہنا ہے کہ سونا اس وقت اپنی قیمتوں کے لیے نچلی سطح تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔منگل کے روز امریکا نے ایران پر نئی فضائی کارروائیاں کیں اور تیل کی فروخت سے متعلق ایک اجازت نامہ بھی منسوخ کر دیا۔ یہ پیش رفت آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آئی، جس کے نتیجے میں امریکی خام تیل کی قیمتوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار اور ڈالر کی قدر بھی بڑھ گئی۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی فیڈرل ریزرو کے جون اجلاس کے منٹس پر مرکوز ہیں، جن سے آئندہ شرح سود کے حوالے سے اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔ مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق ستمبر میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات 63 فیصد سے تجاوز کر گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونا مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس کی طلب پر دباؤ ڈالتی ہے کیونکہ سونا سرمایہ کاروں کو کوئی منافع (ییلڈ) فراہم نہیں کرتا۔دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 60.47 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ پلاٹینم 0.3 فیصد کمی کے بعد 1,635.45 ڈالر اور پیلیڈیم 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 1,268.64 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔