عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں منگل کو نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جبکہ امریکی شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات کے باعث قیمتی دھات کی قیمت کو مزید بلندی کی جانب بڑھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت تقریباً مستحکم رہتے ہوئے 4,344.29 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 4,381.80 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہے۔سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکی فیڈرل ریزرو کے حکام کے آئندہ بیانات پر مرکوز ہے، جن سے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مرکزی بینک آئندہ ماہ اکتوبر میں شرح سود میں مزید اضافہ کرنے پر غور کر رہا ہے یا نہیں۔سونا عمومی طور پر مہنگائی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں سونے کی کشش کم ہوسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ شرح سود کے دوران سرمایہ کار ایسے اثاثوں کو ترجیح دے سکتے ہیں جو باقاعدہ منافع یا پیداوار فراہم کرتے ہیں۔پیپر اسٹون کے سربراہ برائے تحقیق کرس ویسٹن کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ مہنگائی کے خدشات کو بڑھا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔امریکی فیڈرل ریزرو نے گزشتہ ہفتے اپنی پالیسی شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کیا تھا اور آنے والے مہینوں میں مزید اضافے کا عندیہ دیا تھا۔ سینٹ لوئس فیڈ کے صدر البرٹو موسلیم نے بھی کہا ہے کہ مضبوط طلب اور تیل کے علاوہ دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک کو شرح سود میں مزید اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ان کے مطابق مہنگائی کے حوالے سے انتظار کرنے کے بجائے فیڈرل ریزرو کے لیے بروقت اقدام کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی اہم
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی صورتحال بھی عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یمن میں حوثی جنگجوؤں کی جانب سے اسٹریٹجک علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کی اطلاعات کے باعث خطے کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق پیش رفت بھی عالمی مالیاتی اور اجناس کی مارکیٹوں کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتیں
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی منگل کو معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چاندی کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے بعد 66.19 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ پلاٹینم 0.3 فیصد بڑھ کر 1,792.76 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔اسی طرح پیلیڈیم کی قیمت میں بھی 0.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1,305.10 ڈالر فی اونس ریکارڈ کیا گیا۔یوں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں پر اس وقت ایک طرف جغرافیائی سیاسی خطرات اور محفوظ سرمایہ کاری کی طلب اثرانداز ہو رہی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی شرح سود میں ممکنہ اضافے اور مہنگائی کے خدشات قیمتی دھات کی قیمتوں کے لیے دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔