لیاری کے علاقے بغدادی میں جمعہ 4 جولائی کو گرنے والی رہائشی عمارت کے دلخراش واقعے میں 27 قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد سندھ حکومت نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
کمیٹی کی سربراہی:
تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کمشنر کراچی حسن نقوی کریں گے، جنہیں باضابطہ طور پر کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے اراکین:
کمشنر کراچی حسن نقوی (چیئرمین)
اسپیشل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ عائشہ حمید
ندیم احمد (ڈائریکٹر کمپلینٹ، خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کی کمیٹی)
آصف علی لانگا (ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی - SBCA)
دیگر متعلقہ افسران بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔
کمیٹی کی ذمہ داریاں:
عمارت گرنے کی وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے گی۔مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔عمارتوں کی نگرانی، منظوری اور دیکھ بھال کے نظام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
پسِ منظر:
4 جولائی کو پیش آنے والے اس اندوہناک سانحے میں 27 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت کی حالت مخدوش تھی، اس کے باوجود وہاں لوگ رہائش پذیر تھے۔واقعے نے سندھ حکومت، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اہم نکات:
عمارت کی قانونی حیثیت، تعمیراتی معیار اور مرمت کی صورتحال کو بھی جانچا جائے گا۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے کردار کا بھی جائزہ کمیٹی کی تحقیق کا حصہ ہو گا۔کمیٹی اپنی رپورٹ حکومت سندھ کو پیش کرے گی جس کی بنیاد پر آئندہ اقدامات متوقع ہیں۔