ویب ڈیسک: کراچی کے علاقے لیاری میں زمین بوس ہونے والی رہائشی عمارت کے ملبے سے ایک تین ماہ کی بچی معجزانہ طور پر زندہ نکالی گئی، جب کہ حادثے میں بچی کی والدہ سمیت خاندان کے متعدد افراد جاں بحق ہو گئے۔
عمارت گرنے کی تفصیلات:
افسوسناک واقعہ لیاری کے ایک پرانے رہائشی علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک کثیر المنزلہ عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ریسکیو ٹیموں نے اب تک 27 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں، جن میں سے 20 کا تعلق ایک ہی ہندو خاندان سے بتایا جا رہا ہے۔ملبہ ہٹانے کا کام تاحال جاری ہے۔
بچی کی معجزانہ زندگی:
ریسکیو 1122 حکام کے مطابق ملبے سے ایک تین ماہ کی شیر خوار بچی زندہ ملی، جسے صرف معمولی خراشیں آئیں۔بچی مٹی اور دھول میں لت پت تھی، ناک سے معمولی خون آ رہا تھا، لیکن جسم پر کوئی گہرا زخم موجود نہیں تھا۔بچی کی والدہ کی لاش اسی مقام کے قریب سے نکالی گئی جہاں سے بچی ملی۔
ماں کی آخری کوشش؟
جائے حادثہ پر موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ لگتا ہے حادثے کے وقت ماں نے بچی کو زور سے دور پھینک دیا تاکہ وہ بچ جائے۔یہی عمل ممکنہ طور پر بچی کو زندگی دے گیا، جب کہ ماں خود ملبے تلے دب کر جان کی بازی ہار گئی۔
جاں بحق افراد کا تعلق ہندو برادری سے:
جاں بحق ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق ہندو کمیونٹی سے ہے، جو آپس میں قریبی رشتہ دار بھی تھے۔مقامی رہائشیوں کے مطابق متاثرہ خاندان ایک شادی یا تقریب کے لیے عمارت میں جمع تھا۔
ریسکیو آپریشن جاری:
ریسکیو ٹیمیں، رضاکار اور مشینری جائے حادثہ پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔حکام کے مطابق مزید افراد ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایک سبق اور ایک معجزہ:
یہ واقعہ اندوہناک سانحہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس ماں کی بے مثال قربانی کی یاد دلاتا ہے، جس نے شاید اپنی آخری سانسوں میں صرف اپنی بچی کی جان بچانے کا سوچا۔ اور کہاوت بھی سچ ثابت ہوئی:"جسے اللہ رکھے، اُسے کون چکھے"۔