دوحا: قطر کے وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی اور ترکیے کے انٹیلیجنس چیف ابراہیم قالن آج مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے الجزیرہ سے گفتگو میں تصدیق کی کہ قطری وزیرِاعظم مذاکرات کے دوران دیگر ثالث ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے، جن میں امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات کا مقصد غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو عملی شکل دینا ہے۔ ماجد الانصاری کے مطابق قطر کی اعلیٰ سطحی شرکت ظاہر کرتی ہے کہ ثالث ممالک جنگ کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ترکیے کے انٹیلیجنس چیف ابراہیم قالن بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے تاکہ جنگ بندی کے فارمولے پر اتفاق رائے کی راہ ہموار کی جا سکے۔دوسری جانب حماس کے ایک رہنما نے تصدیق کی کہ مذاکرات میں یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کے انخلا پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔حماس نے واضح کیا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کو اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا سے مشروط کیا جانا چاہیے تاکہ غزہ میں پائیدار امن ممکن ہو سکے۔