نجی یونیورسٹی کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے خودکشی کی کوشش کی تھی، جس کے بعد وہ اسپتال میں زیر علاج تھی اور گزشتہ روز وینٹی لیٹر سے ہٹا دی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق طالبہ اب ہوش میں بھی آ چکی ہے۔پولیس نے خودکشی کے معاملے میں اپنی رپورٹ مکمل کرلی ہے، جسے اعلیٰ حکام کو بھیجا جائے گا۔ رپورٹ میں نہ تو لڑکی، نہ ہی لڑکے اور نہ ہی یونیورسٹی انتظامیہ کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں یونیورسٹی انتظامیہ کو عمارت کی خطرناک جگہوں پر شیشے اور حفاظتی جالیاں لگانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔