پنجاب بھر میں ڈرائیونگ سکولز کی تعداد 124 سے بڑھا کر 133 کر دی گئی:ڈی آئی جی
لاہور( کرائم رپورٹر)ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے کہا ہے کہ شہریوں کو محفوظ اور پراعتماد ڈرائیور بنانے کیلئے ٹریفک پولیس بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثات کی روک تھام کیلئے منظم ڈرائیونگ تربیت ناگزیر ہے اور ’’پہلے سیکھیں، پھر ڈرائیو کریں‘‘ کے طرزِ عمل کو اپنانا ہوگا۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق سال 2025 کے دوران پنجاب بھر میں ڈرائیونگ سکولز کی تعداد 124 سے بڑھا کر 133 کر دی گئی ہے، جس سے ڈرائیونگ سکولز کی شرح میں 7 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح صوبہ بھر میں جدید ڈرائیونگ سیمولیٹرز کی سہولت کو 5 شہروں سے بڑھا کر 37 اضلاع تک پھیلا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈرائیونگ سیمولیٹرز کی شرح میں 620 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ترجمان کے مطابق سال 2025 میں 2 لاکھ 17 ہزار سے زائد شہریوں نے ڈرائیونگ کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ گزشتہ سال کے دوران 1 لاکھ 82 ہزار مردوں اور 34 ہزار خواتین نے ڈرائیونگ کی تربیت مکمل کی، جبکہ 378 سے زائد ٹرانسجینڈرز
کو مفت ڈرائیونگ تربیت فراہم کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کرنے والوں کی مجموعی تعداد میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس میں مردوں کی شرکت 24 فیصد، خواتین کی 51 فیصد اور ٹرانسجینڈرز کی 5 فیصد رہی۔ ڈرائیونگ کی تربیت مکمل کرنے والے سٹوڈنٹس کو سرٹیفکیٹ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں
پہلی مرتبہ تعلیمی اداروں میں بھی ڈرائیونگ سکول قائم کیے گئے ہیں، جہاں خواتین کو موٹر سائیکل، کار اور کمرشل گاڑیوں کی ڈرائیونگ کی تربیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹریفک پولیس آئندہ بھی اسی عزم کے ساتھ شہریوں کو ڈرائیونگ کی تربیت فراہم کرتی رہے گی تاکہ سڑکوں پر حادثات میں کمی لائی جا سکے۔