شہرِ قائد کے علاقے محمد علی سوسائٹی میں رواں سال کی بڑی چوری کی واردات سامنے آ گئی ہے، جہاں دو گھریلو ملازماؤں نے 100 تولے سے زائد سونا چرا کر فرار ہو گئیں۔
تفصیلات کے مطابق محمد علی سوسائٹی میں ہونے والی اس واردات کو 2026 کی اب تک کی سب سے بڑی گھریلو چوری قرار دیا جا رہا ہے، جس میں چوری کیے گئے سونے کی مالیت ساڑھے چار کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کا مقدمہ بہادر آباد تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔پولیس کو واردات میں ملوث گھریلو ملازماؤں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ فوٹیج میں ایک ماسی کا چہرہ کھلا ہوا جبکہ دوسری نے سیاہ رنگ کا ماسک پہن رکھا ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق دونوں ملازماؤں کو ایک روز قبل ہی گھر میں کام کے لیے رکھا گیا تھا۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ بلڈنگ کے چوکیدار کی ضمانت پر ملازماؤں کو رکھا گیا، جنہوں نے خود کو نادیہ اور دلشاد بتایا اور بتایا گیا کہ دونوں آپس میں نند بھاوج ہیں۔ دونوں ماسیاں صبح کام کے لیے آئیں اور شام تقریباً 6 بجے واپس چلی گئیں۔
بعد ازاں جب گھر کی خواتین رشتہ داروں کے ہاں سے واپس آئیں تو دیکھا کہ کمرے کی الماریاں ٹوٹی ہوئی تھیں جبکہ فرش پر زیورات کے خالی ڈبے پڑے تھے۔ چوری ہونے والے زیورات میں سونے کے 6 سیٹ، انگوٹھیاں اور کڑے شامل ہیں، جن کا مجموعی وزن 100 تولے سے زائد بتایا جا رہا ہے۔متاثرہ خاندان نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ملازماؤں نادیہ اور دلشاد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور چوری شدہ زیورات برآمد کرائے جائیں۔