فاطمہ نارنگ منڈی کی رہائشی، احمد کو پسند کرتی تھی، اس سے شادی کرنا چاہتی تھی،گھر والے پڑھائی جاری رکھنے پر زور دے رہے تھے
طالبہ کی آخری فون کال بھی احمد کے ساتھ تھی، جس کے بعد اس نے لڑکے کا نمبر ڈیلیٹ کر دیا، پولیس نے اہلخانہ کے بیانات ریکارڈ کر لیے
طالبہ تاحال ہوش میں نہ آسکی ، میڈیکل بورڈ تشکیل ، پروفیسر ڈاکٹر خرم، ڈاکٹر جاوید مگسی، پروفیسَر گائنی ڈاکٹر سائرہ ذیشان شامل ہیں
لاہور(کرائم رپورٹر)نجی یونیورسٹی اقدام خودکشی کیس میں اہم پیش رفت۔ پولیس ذرائع کے مطابق فاطمہ، آبائی علاقے نارنگ منڈی کی رہائشی، احمد نامی نوجوان کو پسند کرتی تھی اور اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ تاہم اہلخانہ اس شادی کے حق میں نہیں تھے اور طالبہ کو اپنی پڑھائی جاری رکھنے پر زور دے رہے تھے۔ذرائع کے مطابق شادی نہ ہونے کی وجہ سے دلبراشتہ ہو کر طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی۔ طالبہ کی آخری فون کال بھی احمد کے ساتھ تھی، جس کے بعد اس نے لڑکے کا نمبر ڈیلیٹ کر دیا۔ پولیس نے اہلخانہ کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں اور کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔دوسری جان طالبہ تاحال ہوش میں نہیں آسکی ہے اس کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو کر کے بورڈ کے اراکین کی تعداد 4 سے بڑھا کر 7 کر دی گئی ہے۔ بورڈ میں پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر خرم سلیم، شعبہ پلمونالوجی کے سربراہ ڈاکٹر جاوید مگسی اور ایسوسی ایٹ پروفیسَر گائنی ڈاکٹر سائرہ ذیشان شامل ہیں۔سینئر ڈاکٹرز طالبہ کی مسلسل نگہداشت کر رہے ہیں جبکہ پرنسپل پروفیسر فاروق افضل بھی علاج کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔