وزیراعظم کی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود:رانا ثنا اللہ،میثاق جمہوریت کے لیے تیار ہیں : اسد قیصر

 رانا ثنا اللہ رابطے بحال، مذاکرات کی پیشکش  اسد قیصر
 حکومت نے تحریک انصاف کو سیاسی مذاکرات کی باضابطہ پیش کش کی جس کا مثبت جواب ملا،ر حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے: مشیر وزیر اعظم ، سیاسی معاملات پر باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی،ملک، جمہوریت اور قومی ادارے سب کے مشترکہ ہیں: رہنما پی ٹی آئی
اسلام آباد(بیورو رپورٹ )حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان رابطے ایک بار پھر بحال ہوگئے ہیں، حکومت نے باضابطہ مزاکرات کی پیشکش کردی جس میں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ، فاٹا، پاٹا، بجٹ اور دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی میثاق جمہوریت کے لیے تیار ہے۔وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، ملاقات میں فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوارڈ، بجٹ اور تمباکو پر مجوزہ ٹیکس سمیت مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور حکومت نے پی ٹی آئی کو ڈائیلاگ کی پیش کش کر دی۔وفاقی وزیر خزانہ کی سربراہی میں وزیر امور کشمیر اور گلگت بلتستان امیرمقام، وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنااللہ جبکہ پی ٹی آئی وفد کی قیادت اسد قیصر کر رہے تھے، اپوزیشن وفد نے ضم شدہ اضلاع پر ٹیکسوں کے نفاذ اور تمباکو پر مجوزہ ٹیکس کے حوالے سے اپنے تحفظات حکومتی وفد کے سامنے رکھے۔اسد قیصر نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو واضح طور پر بتایا ہے کہ فاٹا میں نئے ٹیکس عائد نہیں ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات پر باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی تاہم پاکستان تحریک انصاف میثاق جمہوریت کے لیے تیار ہے کیونکہ ملک، جمہوریت اور قومی ادارے سب کے مشترکہ ہیں۔دوسری جانب رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا کہ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی مذاکرات کی باضابطہ پیش کش کی ہے جس پر پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے، جمہوری نظام میں تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سیاسی مشاورت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔رانا ثنا اللہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فاٹا اور پاٹا سے متعلق ٹیکس معاملات پر عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے بات چیت کرنے اور اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔